(تصویرڈی پی آر پی ای او)
نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں رکن ممالک نے یک طرفہ ٹیرف اور تجارتی پابندیوں، دہشت گردی، مغربی ایشیا کی جنگ، غزہ کی انسانی صورت حال، مقامی کرنسیوں، مصنوعی ذہانت اور عالمی مالیاتی تعاون سمیت اہم عالمی مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کیا ہے۔
نئی دہلی اعلامیے میں توسیع شدہ برکس نے تجارت، دہشت گردی، مغربی ایشیا کی جنگ، مصنوعی ذہانت، مقامی کرنسیوں اور عالمی مالیاتی نظام سمیت متعدد اہم معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کیا، تاہم بعض حساس امور پر اتفاقِ رائے محدود رہا۔
برکس ممالک نے ہفتے کے روز( 12 ستمبر 2026) نئی دہلی اعلامیہ منظور کرلیا، جس میں تجارت اور دہشت گردی سے لے کر مصنوعی ذہانت، مالیاتی تعاون اور ادارہ جاتی اصلاحات تک مختلف عالمی اور علاقائی مسائل پر گروپ کے مشترکہ موقف کی عکاسی کی گئی ہے۔
امریکی ٹیرف، بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور دنیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی تقسیم کے پس منظر میں جاری کیے گئے اعلامیے میں یک طرفہ تجارتی پابندیوں کی مخالفت کی گئی۔ ساتھ ہی برکس ممالک کے درمیان سرحد پار ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کو آسان، تیز،محفوظ اور کم لاگت بنانے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا۔
اعلامیے میں بھارت کی ترجیحات کی جھلک بھی نمایاں رہی، جن میں سرحد پار دہشت گردی کے خلاف سخت موقف، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، صحت، صنعت اور مالیاتی تعاون کے لیے نئے اقدامات شامل ہیں۔
برکس کے لیے اس بارمشترکہ اعلامیہ جاری کرنا بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں برکس کے وزرائے خارجہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کے باعث مشترکہ بیان جاری نہیں کر سکے تھے۔ سربراہی اجلاس سے قبل سفارت کاروں نے مغربی ایشیا کے تنازع پر ایسی زبان پر اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کی جسے دونوں ممالک قبول کرسکیں۔
نئی دہلی اعلامیہ اسی سفارتی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں مغربی ایشیا کی جنگوں اور کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا، تاہم براہِ راست کسی ایک ملک کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا گیا۔
1۔ یک طرفہ محصولات اور تجارتی پابندیوں کی مخالفت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 کے آغاز سے متعدد تجارتی شراکت داروں پر مرحلہ وار ٹیرف عائد کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد امریکی انتظامیہ کے مطابق تجارتی عدم توازن کو درست کرنا اور امریکہ کے لیے مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔
برکس اعلامیے میں ایسے یک طرفہ جبری اقدامات کی مذمت کی گئی جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہوں، اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیہ امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام نہیں لیتا، تاہم اس میں برکس ممالک کو ایسے غیر منصفانہ یک طرفہ تحفظاتی اقدامات سے متاثر ہونے والے ممالک کے اجتماعی گروپ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیاہے کہ برکس ممالک مختلف معاشروں اور تہذیبوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور عالمی تجارتی پالیسیوں سے ان پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گروپ نے عالمی تجارت کے لیے منصفانہ، مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور باہمی مفاد پر مبنی ماحول کو فروغ دینے پر زور دیا۔
تاہم اعلامیہ ان تجارتی اقدامات کے جواب میں کسی مشترکہ جوابی تجارتی نظام کا اعلان نہیں کرتا۔
موسمیاتی پالیسی سے متعلق تجارت پر بھی برکس نے موقف اختیار کیا کہ کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم اگر یک طرفہ، تعزیری، امتیازی یا تحفظاتی نوعیت کے ہوں تو ان کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
2۔ دہشت گردی اور پہلگام حملے کی سخت مذمت
اعلامیے میں دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔بھارت کے لیے اہم سفارتی پیش رفت یہ رہی کہ برکس نے اپریل 2025 میں جموں کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ اس حملے میں 26 افراد کی موت ہوگئی تھی ۔
اعلامیے میں سرحد پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے جیسے مسائل کو بھی نمایاں کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں دوہرے معیار مسترد کرتے ہوئے اسے کسی بھی شکل میں برداشت نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
بھارت طویل عرصے سے عالمی سطح پر سرحد پار دہشت گردی کو ایک الگ اور اہم سکیورٹی چیلنج کے طور پر تسلیم کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ برکس کا یہ موقف اس لیے بھی اہم ہے کہ تنظیم میں چین بھی شامل ہے، جس کا اقوام متحدہ میں پاکستان سے وابستہ بعض دہشت گردوں کے معاملے پر ماضی میں بھارت سے مختلف موقف رہا ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مخصوص مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی سطح پر انسدادِ دہشت گردی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے برکس انسدادِ دہشت گردی ورکنگ گروپ کے ذریعے رکن ممالک کے تعاون کو سراہا گیا۔
نوجوان نسل میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کے بڑھتے رجحان کو بھی ایک اہم چیلنج قرار دیا گیا۔
3۔ مغربی ایشیا کی جنگ پرمشترکہ موقف
ایران اور متحدہ عرب امارات کی برکس میں موجودگی کے باعث مغربی ایشیا کے تنازع پر اتفاقِ رائے ایک مشکل سفارتی مرحلہ تھا۔اعلامیے میں مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی گئی۔
کسی ایک ملک کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرائے بغیر شہری بنیادی ڈھانچے اور محفوظ جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی گئی۔ ساتھ ہی تجارت، سپلائی چین اور توانائی کے بہاؤ کو بلاتعطل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی انسانی صورتِ حال پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ اعلامیے میں غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کی گئی۔
برکس نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیوں، جنگ کے طریقے کے طور پر بھوک کو استعمال کرنے، شہریوں اور شہری تنصیبات، بشمول طبی مراکز، کو نشانہ بنانے اور انسانی امداد کی غیر قانونی رکاوٹ کی مذمت کی۔
اعلامیے میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی (UNRWA) کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں دائر مقدمے میں عدالت کے عارضی اقدامات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی اسرائیل کی قانونی ذمہ داری پر زور دیا گیا تھا۔
برکس نے دو ریاستی حل کی حمایت بھی دہرائی، جس کے تحت 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک فلسطینی ریاست قائم ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
اعلامیے میں اسرائیل سے لبنان میں جنگ بندی کی پاسداری اور باقی ماندہ لبنانی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا جبکہ شام میں ایک جامع سیاسی منتقلی کی حمایت بھی کی گئی
4۔ مقامی کرنسیوں کا فروغ، مگر مشترکہ برکس کرنسی نہیں
برکس کی مشترکہ کرنسی کے قیام کی قیاس آرائیاں کئی برس سے جاری ہیں، تاہم نئی دہلی اعلامیے میں اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
اس کے بجائے برکس نے زیادہ تدریجی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے رکن ممالک کی مقامی کرنسیوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے پر توجہ مرکوز رکھی۔
اعلامیے میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کے فروغ سے متعلق بات چیت کا خیرمقدم کیا گیا، تاہم قومی ترجیحات کا احترام کرنے اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر زور دیا گیا کہ اس معاملے میں سب کے لیے ایک ہی طریقہ قابلِ عمل نہیں۔
برکس پیمنٹ ٹاسک فورس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ مختلف ممالک کے ادائیگی اور پیغام رسانی کے نظام کو ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں کیسے مربوط کیا جاسکتا ہے۔ اس ٹاسک فورس میں رکن ممالک کے مرکزی بینکوں کے ماہرین شامل ہیں۔
مقصد برکس ممالک کے درمیان سرحد پار ادائیگیوں کو تیز، سستا، زیادہ قابلِ رسائی اور محفوظ بنانا ہے۔
اعلامیے میں نیو ڈیولپمنٹ بینک کو بھی مقامی کرنسی میں مالی معاونت بڑھانے، فنڈنگ کے ذرائع متنوع بنانے اور ترقیاتی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے وسائل متحرک کرنے کی ترغیب دی گئی۔
مجوزہ نیو انویسٹمنٹ پلیٹ فارم پر تکنیکی کام بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم اس اجلاس میں کسی نئے سرمایہ کاری نظام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ رکن ممالک نے بھارت کی جانب سے گجرات کے GIFT City International Financial Services Centre میں برکس رسک لیب قائم کرنے کی تجویز پر بھی مزید بات چیت آگے بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
5۔ اے آئی پر گلوبل ساؤتھ کا موقف
اعلامیے میں مصنوعی ذہانت کو گلوبل ساؤتھ کے لیے معاشی اور حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم موقع قرار دیا گیا۔
برکس نے مصنوعی ذہانت کے وسائل تک وسیع تر رسائی کی حمایت کرتے ہوئے اس کے محفوظ، قابلِ اعتماد، جامع، مؤثر اور توانائی بچانے والے استعمال پر زور دیا۔ اعلامیے میں قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت‘ کے فروغ اور گلوبل ساؤتھ کی ضروریات کو عالمی اے آئی پالیسی میں مناسب اہمیت دینے پر بھی زور دیا گیا۔
برکس نے فروری 2026 میں بھارت میں منعقد ہونے والے AI Impact Summit کی میزبانی پر بھارت کو مبارک باد دی اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق برکس لیڈروں کے بیان پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا۔
6۔ برکس سربراہی اجلاس پر بھارت کی چھاپ
نئی دہلی اعلامیے میں متعدد ایسے اقدامات شامل ہیں جنہیں بھارت نے برکس کی صدارت کے دوران ترجیح دی، خصوصاً ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صحت اور ترقیاتی تعاون کے شعبوں میں۔
ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI) کے حوالے سے رکن ممالک کے لیے ایک مشترکہ برکس ریپوزٹری قائم کرنے کی تجویز کا ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف رکن ممالک میں DPI پر مبنی حل کے پائلٹ منصوبے شروع کرنے کی بات بھی کی گئی۔
صحت کے شعبے میں برکس ٹریننگ ہب نیٹ ورک اور ذہنی بہبود کے لیے سینٹرز آف ایکسی لینس کا نیٹ ورک قائم کرنے کی حمایت کی گئی، جبکہ بنگلورو میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (NIMHANS) کو اس نیٹ ورک کے رابطہ مرکز کے طور پر نامزد کیا گیا۔
صنعتی شعبے میں بھارت کی جانب سے قائم کیے گئے India Centre for BRICS Industrial Competencies کا خیرمقدم کیا گیا۔ اس مرکز کا مقصد مینوفیکچرنگ کمپنیوں اور چھوٹے کاروباروں کو Industry 4.0 اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اپنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
بھارت کی قیادت میں دیگر اقدامات میں BRICS Task Force on Growth and Development کا قیام اور BRICS-New Development Bank Knowledge Portal کا اجرا بھی شامل ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے رکن ممالک ترقیاتی منصوبوں سے حاصل ہونے والے تجربات، پالیسیوں اور اسباق ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔
یوں نئی دہلی اعلامیہ ایک طرف برکس کے اندر تجارت، دہشت گردی، مغربی ایشیا اور عالمی حکمرانی جیسے اہم معاملات پر مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ توسیع شدہ برکس نے جہاں اتفاقِ رائے پیدا کیا، وہاں بعض حساس معاملات پر اختلافات کو کھلے تصادم میں تبدیل کرنے کے بجائے محتاط اور متوازن سفارتی زبان اختیار کی۔





