(فوٹواے پی)
غزہ میں نسل کشی کے حقائق پر مبنی دستاویزی فلم ’نازا‘ نے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں عالمی توجہ حاصل کرلی۔ فلم میں 24 اسرائیلی فوجیوں اور انٹیلیجنس اہلکاروں کی شہادتوں کے ذریعے غزہ میں نگرانی، مصنوعی ذہانت، اہداف کے انتخاب اور شہری ہلاکتوں سے متعلق اہم دعوے سامنے لائے گئے ہیں۔
غزہ جنگ اور شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق اسرائیلی فوجی پالیسیوں اورخفیہ انٹیلیجنس نظاموں پرمبنی دستاویزی فلم نازا (NAZA) نے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں توجہ حاصل کرلی۔ آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی ہدایت کاروں یوول ابراہام اور راچل زوور کی یہ فلم 83ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے مرکزی مقابلے میں پیش کی گئی ہے اور اس سال گولڈن لائن کے لیے مقابلہ کرنے والی واحد دستاویزی فلم ہے۔
80 منٹ کی اس فلم کو دی گارڈین اور جے ڈبلیو فلمز کے جیمز ولسن نے پروڈیوس کیا ہے جبکہ آسکرایوارڈ یافتہ فلم دی زون آف انٹرسٹ کے پروڈیوسر جوناتھن گلیزر بھی اس پروجیکٹ میں شامل ہیں۔ دونوں نے اس سے قبل اسی فلم پر ایک ساتھ کام کیا تھا۔
فلم کا عنوان ’نازا‘ ایک عبرانی فوجی مخفف سے لیا گیا ہے، جسے اسرائیلی انٹیلیجنس مبینہ طور پر کسی حملے میں ممکنہ طور پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد یا ذیلی نقصان کے اندازے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
فلم نازا میں 24 اسرائیلی فوجیوں اور انٹیلیجنس اہلکاروں کی شہادتیں شامل ہیں۔ ان کے بیانات میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی شناخت، نگرانی اور انہیں ممکنہ اہداف کے طور پر منتخب کرنے کے لیے مختلف خفیہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کس طرح استعمال کیے گئے۔
فلم کے لیے انٹرویو دینے والے اہلکاروں کے مطابق ان نظاموں کے ذریعے حماس کے متعدد نچلے درجے کے مشتبہ ارکان کی شناخت کی جاتی تھی، جنہیں اس کے بعد رات کے وقت ان کے گھروں میں بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ۔ بعض معاملات میں یہ بات پہلے سے معلوم ہوتی تھی کہ حملے میں ان افراد کے اہل خانہ بھی مارے جائیں گے۔
اندرونی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ہدف بنائے گئے افراد کے فون ہیک کرکے ان کی موجودگی کا پتا لگایا جاتا تھا۔ بعض انٹیلیجنس اہلکار ان افراد کی اپنی بیویوں اور بچوں سے ہونے والی گفتگو بھی خفیہ طور پر سنتے تھے اور یہ نگرانی بعض اوقات گھروں پر حملے سے عین پہلے تک جاری رہتی تھی۔
وینس میں پریس کانفرنس کے دوران یوول ابراہام نے کہا کہ فلم سازوں نے ان اہلکاروں سے بنیادی طور پر ان کے کام اور استعمال کیے جانے والے سسٹمز کی وضاحت کرنے کو کہا۔ ان کے مطابق بعض افراد نے اپنے اقدامات پر پچھتاوے کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے بے حسی اور بعض نے فخر کے ساتھ ان طریقوں کے بارے میں بات کی۔
فلم میں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے ان محلوں کی تباہی کے چشم دید بیانات بھی شامل ہیں جہاں اندازہ تھا کہ تقریباً 25 فیصد آبادی اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہے۔ انٹرویو دینے والوں نے شہری گھروں کو منظم انداز میں جلانے اور امدادی خوراک کی تقسیم کے ایک مرکز پر شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی بیان کیے۔
دی گارڈین کے مطابق فلم میں بات کرنے والے متعدد افراد ایک خفیہ انٹیلیجنس یونٹ میں کام کرتے تھے جو براہ راست اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کو رپورٹ کرتا تھا۔ ان میں سے ایک اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اس یونٹ کا کام ہی امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
ہدایت کاروں یوول ابراہام اور راچل زوور کا کہنا ہے کہ فلم کا مقصد چند انفرادی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ ان فوجی پالیسیوں، احکامات، منظور شدہ طریقہ کار، زبان اور سوچ کا جائزہ لینا ہے جو ایسے اقدامات کو ممکن بناتے ہیں۔
ابراہام نے فلم کو 24 اندرونی ذرائع کی شہادتوں کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر قتل کرنے والے نظام کا جائزہ قرار دیا ہے۔ فلم میں شامل تحقیقات کا بنیادی مواد 2023 سے 2025 کے دوران +972 Magazine، عبرانی جریدے لوکل کال اور دی گارڈین کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹس اور تحقیقات سے لیا گیا ہے۔





