سروائیکل کینسر کے خلاف بڑی پیش رفت،بھارت نے 80 لاکھ خوراکوں کا ہدف عبور کرلیا

Published On: 15 September, 2026 11:04 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
سروائیکل کینسر کے خلاف بڑی پیش رفت،بھارت نے 80 لاکھ خوراکوں کا ہدف عبور کرلیا

(فوٹو اے این آئی)

ملک میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے جاری نیشنل ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے تحت گزشتہ 6 ماہ کے دوران 80 لاکھ سے زائد ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسین کی خوراکیں دی جاچکی ہیں۔

حکام کے مطابق نیشنل ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے تحت ملک بھر میں اب تک 80 لاکھ سے زائد ویکسین لگائی جاچکی ہیں جو نوعمر لڑکیوں کو سروائیکل کینسر سے تحفظ فراہم کرنے کی حکومتی کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔

ریاستوں میں اتر پردیش نے سب سے زیادہ ویکسینیشن ریکارڈ کی ہے، جہاں 22 لاکھ سے زائد نوعمر لڑکیوں کو ایچ پی وی ویکسین دی جاچکی ہے۔ گجرات، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور میزورم نے اپنی مقررہ ہدف آبادی کی 100 فیصد ویکسینیشن مکمل کرلی ہے۔ بہار، آندھرا پردیش اور آسام میں یہ شرح 90 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ کرناٹک میں 85 فیصد سے زیادہ کوریج حاصل ہوئی ہے۔
چھتیس گڑھ، سکم، کیرلم، تلنگانہ اوراڈیسہ میں بھی ویکسینیشن کوریج 60 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت سرکاری صحت کے نظام کے ذریعے ایچ پی وی ویکسین کی بڑھتی ہوئی رسائی اور نوعمر لڑکیوں کے لیے احتیاطی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاس ہے۔

14 سالہ لڑکیوں کے لیے مفت ویکسین
نیشنل ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کا آغاز وزیراعظم نریندر مودی نے 28 فروری کو کیا تھا۔ اس مہم کے تحت 14 سالہ لڑکیوں کو والدین کی رضامندی سے سرکاری مراکز صحت میں رضاکارانہ طور پر مفت، ایک خوراک پر مشتمل ایچ پی وی ویکسین دی جاتی ہے۔
ہیومن پیپیلوما وائرس(HPV) ایک ایسا انفیکشن ہے جو سروائیکل کینسر کا اہم سبب بنتا ہے۔ بھارت میں سروائیکل کینسر خواتین میں پائے جانے والے عام سرطانوں(Cancer) میں دوسرے نمبر پر ہے۔

حکومت کے مطابق تمام ویکسینیشن سیشن تربیت یافتہ طبی افسران کی نگرانی میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ سرکاری مراکز صحت کو 24 گھنٹے دستیاب طبی سہولیات سے بھی منسلک کیا گیا ہے تاکہ ویکسینیشن کے بعد پیدا ہونے والے کسی بھی ممکنہ منفی ردعمل یا AEFI (Adverse Event Following Immunization) کی بروقت جانچ، نگرانی اور طبی انتظام کیا جاسکے۔

رجسٹرار جنرل آف انڈیا (RGI) کے 2021 کے  اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ لڑکیاں 14 سال کی عمر کو پہنچتی ہیں، جو ہر سال اس مہم سے مستفید ہونے والی ہدف آبادی بنتی ہیں۔

دوراُفتادہ علاقوں تک رسائی پر توجہ
وزارت صحت کے مطابق مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ویکسینیشن مہم کے نفاذ کے لیے مقامی ضروریات کے مطابق حکمت عملی اپنائی گئی ہے، تاکہ دیہی، شہری، دور دراز اور جغرافیائی اعتبار سے مشکل علاقوں میں بھی اہل لڑکیوں تک رسائی ممکن بنائی جاسکے۔

مدھیہ پردیش اور گجرات میں 100 فیصد کوریج حاصل کرنے کے پیچھے مسلسل عوامی رابطہ مہم، ریاستی سطح پر مربوط اقدامات اور زمینی سطح پر صحت کے عملے کی خصوصی کوششوں کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں پیش رفت کو بھی مربوط کمیونٹی ہیلتھ نیٹ ورک اور مقامی سطح پر صحت ٹیموں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

حکومت نے ویکسین سے متعلق خدشات اور غلط معلومات کا ازالہ کرنے کے لیے والدین، اساتذہ، طبی ماہرین اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو بھی مہم میں شامل کیا ہے۔

ماہرین اطفال، گائناکولوجسٹ اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) سمیت مختلف اداروں کے ماہرین کے ساتھ ساتھ اساتذہ، آشا (ASHA) اور اے این ایم (ANM) کارکنوں نے بھی عوامی آگاہی اور ویکسینیشن کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

یو وِن پلیٹ فارم سے ویکسینیشن کی نگرانی
وزارت صحت کے مطابق مہم میں بھارت کے ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر سے بھی فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ U-WIN پلیٹ فارم کے ذریعے ضلعی سطح پر ویکسینیشن کوریج کی نگرانی، رہ جانے والے علاقوں اور مستحق افراد کی نشاندہی اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد حاصل کی جارہی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ قومی مہم، ایچ پی وی ویکسینیشن کے عالمی تجربے سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ دنیا بھر میں اب تک ایچ پی وی ویکسین کی 80 کروڑ سے زائد خوراکیں تقسیم کی جاچکی ہیں، جس سے ان کے استعمال اور تحفظ کے حوالے سے وسیع عملی تجربہ حاصل ہوا ہے۔

ابتدا میں ایچ پی وی ویکسین زیادہ تر اچھی معیشت والے ممالک میں استعمال کی جاتی تھی، تاہم اب اسے مختلف آمدنی والے ممالک کے قومی حفاظتی ٹیکہ پروگراموں میں شامل کیا جارہا ہے۔ اس وقت بالائی متوسط آمدنی والے 87 فیصد، نچلے متوسط آمدنی والے 78 فیصد اور کم آمدنی والے 54 فیصد ممالک نے ایچ پی وی ویکسین کو اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ پروگراموں کا حصہ بنا لیا ہے۔

سروائیکل کینسر سے بچاؤ میں ویکسین کی اہمیت
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق سروائیکل کینسر دنیا بھر میں خواتین میں تشخیص ہونے والے کینسرز میں پانچویں نمبر پر ہے۔ 2024 میں دنیا بھر میں اس کے تقریباً 6 لاکھ 4 ہزار نئے کیسز سامنے آئے جبکہ تقریباً 2 لاکھ 80 ہزار خواتین اس مرض کے باعث جان سے گئیں۔

ادارے کے مطابق سروائیکل کینسر بڑی حد تک قابلِ روک تھام بیماری ہے۔ ایچ پی وی ویکسینیشن اور باقاعدہ اسکریننگ کے ذریعے اس کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور بروقت علاج سے مریضہ کے صحت یاب ہونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

عالمی صحت ادارے کی 2022 کی GLOBOCAN رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر سال سروائیکل کینسر کے ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور تقریباً 80 ہزار خواتین اس مرض سے موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔

حکام کے مطابق قومی مہم اب اپنے آخری مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے اور توجہ باقی رہ جانے والی تمام اہل لڑکیوں تک پہنچنے پر مرکوز ہے، تاکہ کوئی بھی مستحق لڑکی ویکسینیشن سے محروم نہ رہ جائے۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، طبی ماہرین، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر آگاہی، رسائی اور مہم کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔

80 لاکھ سے زائد ایچ پی وی ویکسین کی خوراکوں کا سنگِ میل بھارت میں احتیاطی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور آنے والی نسلوں کو سروائیکل کینسر سے طویل مدتی تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔