غزہ میں پولیس کی گاڑی پراسرائیل کا حملہ (فوٹو رائٹرز)
اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں غزہ میں کم از کم 13 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں ۔ ادھر اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو بدھ کے روز جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔ 28 فروری سے یہ راہ داری دوبارہ بند ہے ۔ ہزاروں مریض پریشان ہیں ۔
اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں غزہ میں کم از کم 13 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں ۔ مہلوکین میں دو بچے، ایک حاملہ خاتون اور نو پولیس اہلکار شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، اتوار کے روز وسطی غزہ کے ایک پناہ گزین کیمپ پرحملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چارافرادہلاک ہوگئے۔ مہلوکین میں مرد و خاتون اور ایک 10 سالہ لڑکا شامل ہیں۔ اسی حملے میں ایک اور لڑکے کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔
اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہونے والی خاتون جڑواں بچوں کی ماں بننے والی تھیں۔ مقامی افراد کے مطابق حملے سے قبل کسی قسم کی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔
اسرائیل کی جانب سے ایک اور حملہ الزویدہ کے علاقے میں ایک پولیس گاڑی پر کیا گیا اس حملے میں 9 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اہلکار رمضان کے دوران بازاروں میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے ۔
رفح کراسنگ کوجزوی طور پر کھولنے کا اعلان
دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو بدھ کے روز جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔ تاہم اس کراسنگ کے ذریعے صرف محدود تعداد میں مسافروں کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی جبکہ سامان کی ترسیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رفح کراسنگ کی بندش سے مریضوں کو پریشانی
میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اس وقت 20 ہزار سے زائد بیمار اور زخمی افراد بیرونِ ملک علاج کے انتظار میں ہیں۔ اُن میں تقریباً چار ہزار کینسر کے مریض اور ساڑھے چار ہزار بچے شامل ہیں جبکہ تقریباً 440 مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
عالمی صحت کے مطابق غزہ میں انسانی بحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔ روزانہ تقریباً 600 امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے مگر اس وقت صرف 200 کے قریب ٹرک ہی داخل ہو پا رہے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ضروری دواؤں کا تقریباً نصف ذخیرہ ختم ہو چکا ہے جبکہ دو تہائی طبی سامان بھی دستیاب نہیں رہا، جس کے باعث طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ ایک اہم راستہ ہے، یہ کراسنگ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران طویل عرصے تک بند رہی، جبکہ یکم فروری کو محدود بنیادوں پر کھولی گئی تھی تاکہ طبی مریض بیرونِ ملک جا سکیں مگر 28 فروری کو دوبارہ بندش نے تمام طبی انخلا روک دیا۔




