مذاکرات یا جنگ؟ بات چیت ہونے ، نہ ہونے یا ناکام ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟

Published On: 21 April, 2026 11:57 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
مذاکرات یا جنگ؟ بات چیت ہونے ، نہ ہونے یا ناکام ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟

(فوٹواے پی)

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے بیچ بات چیت ہوگی؟ یہ سوال ہر زبان پر ہے لیکن اس کا قطعی جواب ثالث پاکستان کے پاس بھی نہیں ۔ ثالث کا کردار ادا کررہے پاکستان کے لیے یہ امتحان کی گھڑی ہے ۔ ایران کی جانب سے تاحال شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی جواب نہیں آیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے بیچ بات چیت ہوگی؟ یہ سوال ہر زبان پر ہے لیکن اس کا قطعی جواب ثالث پاکستان کے پاس بھی نہیں  ۔ ثالث کا کردار ادا کررہے پاکستان کے لیے یہ امتحان کی گھڑی ہے ۔ ایران کی جانب سے تاحال شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی جواب نہیں آیا ہے۔
 
ادھر، ٹرمپ کوبات چیت کی اُمید تو ہے لیکن وہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں  دھمکی بھی دے رہے ہیں ۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بدھ کی شام تک ختم ہو سکتی ہے اور کسی معاہدے کے بغیر اس میں توسیع کا امکان کم ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے  ایران اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور اس کے جلد ہی امریکا کے ساتھ مذاکرات پر کوئی فیصلہ کرے گا۔
 
ادھر، پاکستان کی جانب سے ایران کو بات چیت کی میزپر لانے کی کوششیں جاری ہیں ۔ اسلام آباد مذاکرات ہونے،نہ ہونے  یا ناکام کی صورت میں کیا ہوگا؟ کیا جنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی یا اس کے علاوہ بھی کوئی صورت ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے؟

 

پہلی صورت: مذاکرات اورعارضی معاہدہ


امریکہ اور ایران کے موقف میں اختلافات واضح ہیں۔ دونوں کے درمیان اعتماد کا خسارہ بھی ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ اور ایران کے بیچ اسلام آباد میں بات چیت ہوتی ہے تو وہ ثمر آور ہوگی اس کے امکانات کم ہیں۔ تاہم حتمی معاہدے کے لیے عبوری مفاہمت ہوسکتی ہے جس سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ جنگ بندی میں توسیع ہوسکتی ہے۔

 

دوسری صورت: بات چیت سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہولیکن سیزفائرمیں توسیع    


سمجھوتے کے بغیر بات چیت میں پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی منتقلی پرخصوصی زوردے رہے ہیں جسے ایران نے مسترد کردیا ہے۔ اسلام آباد میں دوسرے دور کی بات چیت بے نتیجہ رہتی ہے تب بھی فریقین سفارت کاری کو مزید موقع دینے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کے لیے راضی ہوسکتے ہیں۔

 

تیسری صورت: مذاکرات کے بغیرجنگ بندی میں توسیع


حالانکہ صدر ٹرمپ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں جنگ بندی میں توسیع کرنے کے امکانات سے انکار کرچکے ہیں۔ اگر بات چیت کے بغیر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے تو یہ دیرپا نہیں ہوگی۔ بحری ناکے بندی کے جاری رہنے پر کشیدگی میں اضافہ ہی ہوگا۔