آیت اللہ خامنہ ای کی 9 جولائی کو تدفین، 6 روزہ الوداعی تقریبات کا اعلان

Published On: 13 June, 2026 07:57 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
آیت اللہ خامنہ ای کی 9 جولائی کو تدفین، 6 روزہ الوداعی تقریبات کا اعلان

(فوٹواے پی)

سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور آخری رسومات کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت نے آج (ہفتہ،13 جون ) اعلان کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک مختلف مراحل میں منعقد کی جائیں گی۔میڈیا رپورٹس رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی تقریبات کا آغاز  تہران سے کیا جائے گا، جہاں ان کی میت کو آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔
اس کے بعد 6 جولائی کو تہران میں باضابطہ جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ تہران کے ڈپٹی میئر کے مطابق صرف دارالحکومت تہران میں تقریباً 2 کروڑ افراد کی آمد کے پیشِ نظرغیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

7 جولائی کو میت ایران کے شہر قُم منتقل کی جائے گی جہاں تعزیتی اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔سرکاری میڈیا کے مطابق 9 جولائی کو مشہد میں جنازے کی مرکزی تقریب کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع حرمِ امام رضا‘ میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ، آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور امن کی کوششیں جاری ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہرمشہد میں  پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پرورش نسبتاً سادہ اور محدود وسائل میں ہوئی۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔مشہد کے ایک مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے عراق کے شہر نجف گئے، جہاں وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے شاگرد رہے۔

علی خامنہ ای 1960 اور 1970 کی دہائی میں شاہِ ایران کے خلاف انقلابی تحریک میں بھی بھرپور سرگرم رہے۔ شاہ کی خفیہ پولیس نے انہیں چھ بار گرفتار کیا اور انہیں طویل عرصے تک قید اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔

1981 میں تہران کی ایک مسجد میں تقریر کے دوران ایک ریکارڈنگ مائیکروفون میں چھپائے گئے بم کے ذریعے ان پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔ اس حملے میں وہ بال بال بچے لیکن ان کا سیدھا ہاتھ مستقل طور پر ناکارہ ہو گیا تھا۔

شاہِ ایران کا تختہ الٹنے کے بعد وہ ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے اور ایران-عراق جنگ کے مشکل ترین دور میں ملک کے صدر رہے۔ 1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد انہیں ایران کا دوسرا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ ملک کے سیاسی، مذہبی اور سیکیورٹی معاملات میں انہیں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔


امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو آپریشن ایپک فیوری  کے نام سے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا تو اس دوران تہران میں واقع علی خامنہ ای کے رہائشی کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

ان حملوں میں علی خامنہ کے علاوہ ان کے اہلِ خانہ سمیت ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور حکومتی عہدیدار بھی جاں بحق ہوئے تھے، تاہم جنگی حالات اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ان کی تدفین کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔