(فوٹو اے پی)
بیروت پر اسرائیل کے حملے پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرمپ نے کہا کہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں جو لبنان سمیت خطے میں امن لائے گا آئیے اسے ضائع نہ کریں ۔
بیروت پر اسرائیل کے حملے پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرمپ نے کہا کہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں جو لبنان سمیت خطے میں امن لائے گا آئیے اسے ضائع نہ کریں ۔ انھوں نے فریقوں سےکہا کہ مزید کوئی حملہ نہ کیا جائے۔
ٹرمپ نے شمالی اسرائیل پر حملے کو بہت چھوٹا اور غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص ہلاک، زخمی یا متاثر نہیں ہوا، اور یہ اس اہم عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
واضح رہے کہ بیروت کے مضافات میں کیے گئے اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور جوابی کارروائی کی دھکی دی تھی۔ اسرائیل کے حملے میں ین افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے ہیں۔
ٹرمپ، جنہوں نے کہا تھا کہ معاہدے پر اتوار کو دستخط ہو سکتے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیتے رہے ہیں کہ جب معاہدہ قریب ہو تو لبنان پر شدید حملے بند کیے جائیں، لیکن وزیر اعظم نے ان کی بات نہیں مانی۔
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ یہ حملے شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ حزب اللہ نے تین پروجیکٹائل فائر کیے اور اس کی جاری کردہ ویڈیو میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہاکہ اسرائیل اپنی سرزمین پر فائرنگ برداشت نہیں کرے گا۔اس کے بعد فوج نے کہا کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں ممکنہ جوابی حملوں کے لیے تیاری کر رہی ہے۔
ادھر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ان اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بیروت پر صیہونیوں کی دراندازی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں یا پھر ان پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
باقر قالیباف کا مزید کہنا کہ مذاکرات کے دوران اگر کوئی فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہو اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔




