ہاکی ٹیم کی زعفرانی جرسی پر ہنگامہ، سابق کپتان نے فیصلے کو شرمناک قرار دیا

Published On: 30 July, 2026 04:22 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ہاکی ٹیم کی زعفرانی جرسی پر ہنگامہ، سابق کپتان نے فیصلے کو شرمناک  قرار دیا

(فوٹوانسٹاگرام گریب)

ورلڈ کپ 2026 سے قبل ہاکی انڈیا کی جانب سے مردوں اور خواتین کی قومی ٹیموں کے لیے روایتی نیلی جرسی کے بجائے زعفرانی رنگ کی نئی جرسی متعارف کرانے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

 ہندوستانی مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیمیں اگلے ماہ نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں ہونے والے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ اپنی روایتی نیلی جرسی کے بجائے زعفرانی رنگ کی جرسی میں میدان میں اتریں گی۔

ہاکی انڈیا نے سوشل میڈیا پر نئی جرسی کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے رنگ اور ڈیزائن بھارت کی شناخت اور فخر کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق جرسی کو کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔

ہاکی انڈیا کا کہنا ہے کہ زعفرانی رنگ ہمت، قربانی اور کامیابی کی علامت ہے اور اس فیصلے میں کسی قسم کا بیرونی یا سیاسی دباؤ شامل نہیں۔

سابق کپتان نےکی تنقید
 ہاکی ٹیم کے سابق کپتان ویرین راسکوینہا(Viren Rasquinha) نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ہاکی کی اصل پہنچان ہمیشہ نیلی جرسی رہی ہے۔

انہوں نے ایکس  پرپوسٹ میں لکھاکہ ہاکی انڈیا نے ہاکی کے لیے بہت اچھے کام کیے ہیں ، لیکن یہ فیصلہ شرمناک ہے۔ میں نے کئی برس نیلی جرسی پہن کر ملک کی نمائندگی کی ہے۔ شائقین بھی ہندوستانی ٹیم کو نیلے رنگ میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ آخر زعفرانی رنگ منتخب کرنے کی منطق کیا ہے؟

اس کےبعد جب ان کی پوسٹ پر سیاسی تبصرے شروع ہوئے تو ویرین راسکوینہا نے وضاحت کی کہ ان کا اعتراض کسی سیاسی پہلو پر نہیں بلکہ صرف ٹیم کی روایت، شناخت اور کھیل کے ورثے سے متعلق ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا ہاکی سے وہی تعلق ہے جو ارجنٹینا کا فٹبال سے ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا کبھی ارجنٹینا اپنی روایتی جرسی چھوڑ کر کسی اور رنگ کو پہلی پسند بنائے گا؟

 

 ہاکی انڈیا کی وضاحت 

ہاکی انڈیا کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ زعفرانی رنگ پر اعتراض کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ بھارت کے قومی پرچم کا حصہ ہے۔ان کے مطابق اس فیصلے میں کوئی سیاست نہیں۔ تبدیلی ہمیشہ خوش آئند ہوتی ہے اور زعفرانی رنگ بھی ترنگے کا حصہ ہے۔

تنظیم نے یہ بھی وضاحت کی کہ نیلی ہاکی ٹرف پر نیلی جرسی پہننے سے کھلاڑیوں کو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے ٹیلی ویژن ناظرین اور براڈکاسٹرز دونوں کو دشواری پیش آتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زعفرانی جرسی میدان میں کھلاڑیوں کو زیادہ نمایاں بنائے گی۔

نئی جرسی پرسوشل میڈیا پربھی چھڑی بحث
کئی صارفین نے ویرین راسکوینہا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تمام قومی ٹیموں کو ایک ہی بنیادی رنگ برقرار رکھنا چاہیے، کیونکہ دنیا بھر میں ہندوستانی کھیلوں کی پہچان نیلا رنگ ہے۔

کچھ یوزر نے یاد دلایا کہ 2019 کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی ہندوستان نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں نارنجی رنگ کی جرسی پہننے پر اسی نوعیت کی بحث جنم لی تھی۔

ایک صارف نے یہ بھی کہا کہ نیدرلینڈز، جن کی قومی ٹیمیں اورنج کے نام سے مشہور ہیں، ان کے ملک میں جا کر اسی رنگ کی جرسی پہننا مزید حیران کن فیصلہ ہے۔

دوسری جانب کئی صارفین نے نئی جرسی کے ڈیزائن کو سراہتے ہوئے کہا کہ زعفرانی رنگ، نیلے شیڈز، ثقافتی نقش و نگار اور ترنگے کی جھلک اسے منفرد اور خوبصورت بناتی ہے۔