(فوٹورائٹرز)
فیفا کی جانب سے ورلڈ کپ اور دیگر عالمی ٹورنامنٹس میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ دینے کی مجوزہ اسکیم عالمی فٹ بال کے لیے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے اعلان کیا ہے کہ اگر فیفا نے یہ منصوبہ واپس نہ لیا تو یورپی ٹیمیں فیفا مقابلوں کا بائیکاٹ کریں گی۔
فیفا اوریوئیفا کے بیچ ٹھن گئی ہے ۔ یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یوئیفا(UEFA) نے عالمی مقابلوں کی ملکیت میں نجی سرمایہ کاروں کو حصص دینے کی تجویز کی سخت مخالفت کی ہے اور اس نے یہ تجویز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے بہ صورت دیگر یوئیفا نے فیفا ٹورنانٹس میں شرکت نہ کرنے دھمکی دی ہے۔
یوئیفا(UEFA) نے جمعرات کو ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ لیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام 55 رکن ممالک نے بائیکاٹ کے حق میں ووٹ دیا۔ یوئیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اسے سرمایہ کاری کی ایک تجارتی مصنوعات میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
فیفا کی تجویزکیا ہے؟
فیفا کے صدر انفینٹینو (Gianni Infantino) نے ورلڈ کپ اور دیگر عالمی مقابلوں کے انتظام کے لیے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی ایک ذیلی کمپنی قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں نجی سرمایہ کاروں کو اقلیتی حصص فروخت کیے جائیں گے۔
منصوبے کے مطابق اگر رکن ممالک 19 ستمبر تک اس تجویز کی منظوری دے دیں تو فیفا 2027 سے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر تقسیم کرے گا، جس کے تحت ہر رکن ملک کو تقریباً 4 کروڑ ڈالر ملیں گے۔ بصورت دیگر پہلے سے تجویز کردہ تقریباً 2.7 ارب ڈالر کا پیکیج برقرار رہے گا۔
'فٹبال سرمایہ کاروں کا نہیں، شائقین کا کھیل ہے'
یوئیفا نے سخت لہجے میں کہا کہ نجی سرمایہ کاروں کو عالمی مقابلوں میں ملکیتی حقوق دینا فٹبال کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔بیان کے مطابق ایک مرتبہ سرمایہ کار شامل ہوگئے تو منافع کمانا مستقل ترجیح بن جائے گا اور کھیل پر تجارتی دباؤ بڑھ جائے گا۔
برطانیہ کی وزیر ثقافت لیزا نندی(Lisa Nandy) نے بھی یوئیفا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال ارب پتی سرمایہ کاروں کا نہیں بلکہ شائقین کا کھیل ہے۔
واضح رہے کہ مردوں اور خواتین دونوں فٹ بال میں ٹاپ 10 درجہ بندی والی ٹیموں میں سے چھ کا تعلق یورپ سے ہے۔اس میں موجودہ عالمی چیمپئن اسپین بھی شامل ہے، جس نے ورلڈکپ 2026 جیتا ہے۔
دیگرتنظیموں کا ردعمل
شمالی اور وسطی امریکہ کی تنظیم کونکاکاف (CONCACAF) نے بھی فیفا کی تجویزمسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے عمل میں شفافیت، مناسب مشاورت اور گورننس کا فقدان رہا۔
دوسری جانب ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن (AFC) کے
صدر سلمان بن ابراہیم الخلیفہ (Salman bin Ibrahim Al Khalifa) نے کہا کہ فیفا نے اس منصوبے پر ایشیائی تنظیم سے کوئی مشاورت نہیں کی، جو ناقابل قبول ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ تمام چھ براعظمی تنظیموں کی حمایت کے بغیر یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
افریقی فٹبال کنفیڈریشن آئندہ ہفتے اس معاملے پر غور کرے گی، جبکہ اوشیانا کی تنظیم اگلے ماہ اجلاس میں اس تجویز پر فیصلہ کرے گی۔ جنوبی امریکی تنظیم کونمیبول (CONMEBOL) نے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں رکھا۔
ورلڈ کپ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
یوئیفا کے فیصلے سے 2027 ویمنز ورلڈ کپ اور 2030 فیفا ورلڈ کپ کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔
2030 کے ورلڈ کپ کی میزبانی اسپین،پرتگال اور مراکش مشترکہ طور پر کریں گے، جبکہ مردوں اور خواتین کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ٹیموں کی بڑی تعداد بھی یورپ سے تعلق رکھتی ہے۔




