(فوٹو اے آئی)
برازیل(Brazil ) کی ٹیم فیفا عالمی کپ میں اپنی مہم کا آغاز کرے گی ۔ گروپ سی کے ایک بڑے مقابلے میں مراکش سے برازیل کی ٹکر ہوگی ۔
پانچ بارکی عالمی چیمپیئن برازیل عالمی کپ مہم کی شروعات کرے گی ۔ برازیل کا سامنا مراکش سے ہے۔ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم ہونے کے باوجود اس بار برازیل کو خطاب کا مضبوط دعویدار نہیں مانا جارہا ہے۔اگرچہ کارلو انچیلوٹی کی ٹیم کو تاریخ کی نسبتاً کم پسندیدہ برازیلین ٹیموں میں شمار کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اسکواڈ میں وینیسیئس جونیئر( Vinicius Jr)، رافینیا(Raphinha) اور تجربہ کار نیمار جونیئر (Neymar Jr)جیسے بڑے نام موجود ہیں۔
دیگر ٹیموں کے برعکس، جو نسبتاً آسان حریفوں کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کر رہی ہیں، برازیل کو پہلے ہی میچ میں سخت امتحان درپیش ہے کیونکہ اس کا مقابلہ موجودہ افریقی چیمپئن مراکش سے ہوگا۔
اشرف حکیمی( Achraf Hakimi) اور ابراہیم دیاز(Brahim Diaz ) جیسے ستاروں کی موجودگی میں مراکش کی ٹیم صلاحیت اور جارحانہ قوت سے بھرپور ہے اور ماضی نے ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کی بہترین ٹیموں کو بھی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔
انجریز اور دباؤ کا شکار برازیل
نئے کوچ، متعدد انجریز اور افراتفری سے بھرپور کوالیفائنگ مہم کے باعث برازیل کی 2026 ورلڈ کپ کی تیاری مثالی نہیں رہی۔
ریکارڈ چھٹے عالمی ٹائٹل کی تلاش میں انچیلوٹی(Ancelotti ) کو ایک بڑی ذمہ داری کا سامنا ہے کیونکہ گزشتہ پانچ ورلڈ کپ میں سے چار میں برازیل کو کوارٹر فائنل مرحلے پر ہی باہر ہونا پڑا تھا۔
برازیل کبھی بھی ورلڈ کپ میں خاموشی سے داخل نہیں ہوتا لیکن اس مرتبہ توقعات غیر معمولی طور پر کم ہیں۔ برازیل کو عالمی چیمپئن بنے 24 سال گزر چکے ہیں۔
گول کیپر ایلیسن ( Alisson)نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ ٹیم کے بارے میں کچھ شکوک موجود ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے کہ برازیل کو فیورٹ نہیں مانا گیا لیکن وہ آخرکار ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہا۔
برازیل کے پاس ستاروں سے سجی ٹیم ہے جس میں دفاع میں مارکینوس(Marquinhos) اور گیبریل ماگالہائس (Gabriel Magalhaes )، ونگز پر وینیسیئس جونیئر اور رافینیا جبکہ حملے میں ماتھیوس کونیا(Matheus Cunha) شامل ہیں۔
نیمار بھی ڈھائی سال بعد قومی ٹیم میں واپس آئے ہیں، تاہم ان کی فٹنس اور مسلسل گرتی ہوئی کارکردگی برازیل کی مہم کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
کیا مراکش کرسکتا ہے بڑا الٹ پھیر؟
2022 قطر ورلڈ کپ میں مراکش کا مظاہرہ شاندار رہا تھا۔ اس نے اسپین اور پرتگال کو شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی، جہاں اسے فرانس کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔
ورلڈ کپ سیمی فائنل تک پہنچنے والی پہلی افریقی اور عرب ٹیم ہونے کے ناطے، مراکش سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 2026 کے ٹورنامنٹ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کی ٹیموں میں سب سے بہتر کارکردگی دکھائے گا۔
اسپین اور فرانس کی اکیڈمیوں اور لیگوں میں تربیت پانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم برازیل کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
تاہم مراکش بھی اپنے مسائل کے ساتھ ٹورنامنٹ میں داخل ہو رہا ہے۔مراکش نے 2026 کا آغاز اپنے ہی میدان پر افریقن کپ آف نیشنز کے فائنل میں سینیگال سے شکست کے ساتھ کیا تھا، تاہم اس کے بعد متنازع انداز میں اسے چیمپئن قرار دیا گیا جب سینیگال نے پنالٹی کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے میدان چھوڑ دیا تھا۔
طویل عرصے تک ٹیم کی کوچنگ کرنے والے ولیدریگراگی(Walid Regragui ) نے ورلڈ کپ سے تین ماہ قبل استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ان کی جگہ بیلجیئم میں پیدا ہونے والے محمد وہبی(Mohamed Ouahbi) کو کوچ مقرر کیا گیا۔ وہبی نے گزشتہ سال چلی میں مراکش کو انڈر-20 ورلڈ کپ جتوایا تھا۔




