(فوٹو اے آئی)
دنیا میں خواتین کے لیے سب سے محفوظ اور بہتر ملک کون سا ہے؟ ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی (WPS) انڈیکس 2025-26 کی تازہ رپورٹ کے مطابق ڈنمارک خواتین کے لیے دنیا کا بہترین ملک قرار پایا ہے، جبکہ تمام پانچ اعلیٰ پوزیشنوں پر شمالی یورپ کے نورڈک ممالک قابض ہیں۔
دنیا بھر میں خواتین کی زندگی، تحفظ اور مساوی مواقع کے حوالے سے جاری ہونے والی تازہ ترین ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی (WPS) انڈیکس 2025-26 رپورٹ میں ایک بار پھر شمالی یورپ کے ممالک نے اپنی برتری برقرار رکھی ہے جبکہ جنگ، بدامنی اور سیاسی عدم استحکام سے متاثرہ ممالک فہرست کے نچلے حصے میں موجود ہیں۔
امریکی ادارے جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ فارویمن،پیس اینڈ سکیورٹی(Georgetown Institute for Women, Peace and Security) کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں دنیا کے 181 ممالک کو خواتین کی شمولیت، انصاف اور تحفظ سے متعلق 13 مختلف اشاریوں کی بنیاد پر درجہ بندی دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈنمارک 0.939 اسکور کے ساتھ دنیا میں خواتین کے لیے بہترین ملک قرار پایا ہے۔ڈنمارک کے بعد فہرست میں آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ ٹاپ فائیو میں شامل ہیں، جبکہ لکسمبرگ، بیلجیم، نیدرلینڈز، آسٹریا اور نیوزی لینڈ نے بھی ٹاپ ٹن میں جگہ بنائی ہے۔
دوسری جانب افغانستان ایک بار پھر فہرست میں آخری نمبر پر رہا، جہاں خواتین کے حقوق، تعلیم، روزگار اور تحفظ کی صورتحال دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کمزور قرار دی گئی۔
نورڈک ممالک مسلسل سرفہرست کیوں؟
رپورٹ کے مطابق نورڈک ممالک کی کامیابی کی بنیادی وجہ خواتین کو تعلیم، روزگار، مالیاتی سہولیات، قانونی تحفظ، سیاسی نمائندگی اور سماجی فلاح کے شعبوں میں یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔
ان ممالک میں خواتین کے خلاف تشدد کی شرح نسبتاً کم ہے، جبکہ مضبوط حکومتی ادارے، مؤثر قانون نافذ کرنے کا نظام اور وسیع سماجی تحفظ کا ڈھانچہ صنفی مساوات کو فروغ دیتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کوئی بھی ملک مکمل اسکور حاصل نہیں کر سکا، تاہم مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے نورڈک خطہ اب بھی خواتین کی فلاح و بہبود کا عالمی معیار تصور کیا جاتا ہے۔
لاطینی امریکہ کے دو ممالک کی نمایاں پیش رفت
رپورٹ میں کوسٹا ریکا اور یوراگوئے کی کارکردگی کو بھی نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک پہلی مرتبہ دنیا کے بہترین 20 فیصد ممالک میں شامل ہوئے ہیں، جسے خواتین کے حقوق، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں مسلسل اصلاحات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جنگ زدہ ممالک خواتین کے لیے بدترین قرار
فہرست کے نچلے درجوں میں افغانستان کے علاوہ یمن، وسطی افریقی جمہوریہ، شام، سوڈان، ہیٹی، جمہوریہ کانگو، برونڈی، جنوبی سوڈان اور میانمار شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں جاری جنگ، سیاسی عدم استحکام، نقل مکانی اور انسانی بحرانوں کا سب سے زیادہ منفی اثر خواتین پر پڑ رہا ہے۔
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کم ترین درجہ بندی والے 12 ممالک میں رہنے والی 70 فیصد سے زائد خواتین مسلح تنازعات کے علاقوں کے قریب رہتی ہیں، جس کے باعث انہیں بے گھر ہونے، صنفی تشدد اور بنیادی سہولیات سے محرومی جیسے سنگین خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
خواتین کی فلاح، معاشرے کی مضبوطی کی علامت
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی انڈیکس صرف صنفی مساوات کا پیمانہ نہیں بلکہ کسی بھی ملک کے سماجی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی، معاشی مواقع، صحت کی سہولیات، قانونی تحفظ اور امن و امان کی مجموعی کیفیت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ ممالک جہاں خواتین کو محفوظ ماحول، بہتر تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات، معاشی مواقع اور قانونی تحفظ میسر ہو، وہاں مجموعی طور پر معاشرہ بھی زیادہ مستحکم اور خوشحال ہوتا ہے۔




