(فوٹواے آئی)
ملک میں خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی تعلیم سے متعلق اعداد و شمار نے تشویشناک صورتحال بے نقاب کر دی ہے۔ وزارت تعلیم کے یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس کے مطابق لاکھوں معذور اور خصوصی تعلیمی ضروریات والے بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔
وزارت تعلیم کے یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (UDISEپلس) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خصوصی ضروریات کے حامل بچوں(Children With Special Needs) میں سے 30 فیصد سے بھی کم اس وقت اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ گزشتہ 8 برسوں کے دوران اس شرح میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہواہے، جو تعلیمی انفراسٹرکچر، سہولیات اور تربیت یافتہ اساتذہ کی دستیابی میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر کے اسکولوں میں صرف 21 لاکھ 66 ہزار خصوصی تعلیمی ضروریات والے طلبہ زیر تعلیم ہیں،جبکہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں10سے 19 سال تک کی عمر کے ایسے بچوں کی تعداد تقریباً 78 لاکھ 70 ہزار تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 70 فیصد سے زائد خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے تعلیمی نظام کا حصہ ہی نہیں بن سکے۔
بنیادی سہولیات کی کمی بڑی رکاوٹ
ماہرین کے مطابق اسکولوں میں معذور بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کا فقدان اس مسئلے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ متعدد تعلیمی اداروں میں وہیل چیئر کے لیے ریمپس، خصوصی بیت الخلا، مناسب ٹرانسپورٹ اور معاون تدریسی آلات موجود نہیں، جس کے باعث ایسے بچوں کے لیے اسکول جانا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خصوصی تعلیم دینے والے تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
سماج کی سوچ بھی ایک بڑا مسئلہ
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بہت سے والدین اپنے خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے گھر پر تعلیم دینے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ کئی تعلیمی اداروں میں انہیں امتیازی سلوک اور غیر دوستانہ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق جب اسکول جامع اور مساوی ماحول فراہم کرنے کے بجائے امتیاز کی علامت بن جائیں تو ایسے بچوں کی تعلیم کا بنیادی حق متاثر ہوتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں صورتحال مزید تشویش ناک
یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے جیسے تعلیمی درجات بلند ہوتے ہیں، خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی آتی جاتی ہے۔ درس و تدریس کا نامناسب ماحول، مناسب سہولیات کی عدم دستیابی اور ناکافی معاونت کے باعث بہت سے طلبہ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جامع تعلیمی نظام وقت کا تقاضہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ ایسے جامع تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جہاں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے، خصوصی تربیت یافتہ اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور معاشرے میں خصوصی تعلیمی ضروریات والے طلبہ کے حوالے سے مثبت رویوں کو فروغ دیا جائے۔
ان کے مطابق جب تک حکومت، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے، لاکھوں بچے معیاری تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہیں گے۔




