غزہ جنگ کے بعد اسرائیل میں سیاسی بساط تبدیل، انتخابات میں کن مسائل کا رہے گا غلبہ ؟

Published On: 30 July, 2026 12:19 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
غزہ جنگ کے بعد اسرائیل میں سیاسی بساط تبدیل، انتخابات میں کن مسائل کا رہے گا غلبہ ؟

(فوٹو اے آئی)

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات میں 7 اکتوبر حملے کی تحقیقات، فوجی بھرتی، حریدیم کی فوجی چھوٹ، مہنگائی اور بنیامین نیتن یاہو کی گرتی مقبولیت اہم انتخابی موضوعات بن گئے ہیں۔

اسرائیل میں انتخابی ہلچل تیز ہورہی ہے۔ انتخابات وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے لیے بڑا امتحان ہیں جو ان کا سیاسی مستقبل طئے کریں گے ۔27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کئی اہم داخلی اور قومی سلامتی کے مسائل چھائے رہیں گے ۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی تحقیقات، فوجی بھرتی، مذہبی و سماجی تقسیم، مہنگائی اور بنیامین نیتن یاہو کی مقبولیت کا گرتا گراف ایسے عوامل ہیں جو نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

 پارلیمانی انتخابات ملکی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بار رائے دہندگان  چار بڑے اور متنازع معاملات کو پیش نظر رکھ کر کوئی فیصلہ سنائیں گے۔

7 اکتوبر حملے کی تحقیقات، انتخابی مہم کا اہم ترین موضوع
2023 میں حماس کے غیر معمولی حملے نے اسرائیل کی سکیورٹی حکمت عملی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی عوام حملے سے پہلے ہونے والی مبینہ ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور خود مختار تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اپوزیشن پارٹیوں نے اعلان کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ ایسے کمیشن کی تشکیل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گی۔ دوسری جانب نیتن یاہو حکومت اس مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے سکیورٹی اداروں کو زیادہ ذمہ دار قرار دیتی ہے اور سیاست دانوں کی نگرانی میں مشترکہ کمیشن بنانے کی حامی ہے۔اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ کا کہنا ہے کہ حکومتی تجویز کا مقصد اصل ذمہ داروں کو احتساب سے بچانا ہے۔

مسلسل جنگ اور اسرائیلی فوج پربڑھتادباؤ 
7 اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے علاوہ جنوبی لبنان، شام کے بعض علاقوں، مغربی کنارے، ایران اور یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں اسرائیلی فوج پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہیں۔

متعدد محاذوں پر ایک ساتھ فوجی سرگرمیوں کے باعث اضافی فوجیوں کی مسلسل ضرورت، افرادی قوت میں کمی اور بڑھتے معاشی بوجھ نے اسرائیل کے اندر طویل جنگ کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

حریدی یہودیوں کا احتجاج، سیاسی اور سماجی تنازع
فوج میں افرادی قوت کی کمی کے باعث حریدی یہودی (قدامت پسند  یہودیوں) کو لازمی فوجی خدمت سے حاصل استثنیٰ بھی انتخابی موضوع بن چکا ہے۔مذہبی جماعتیں اور نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اس استثنی کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں جبکہ اپوزیشن اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
انتہائی قدامت پسند یہودی فرقے کو حریدیم یا حریدی یہودی کہا جاتا ہے اور یہ ٹی وی، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا استعمال کیے بغیر الگ تھلگ رہتے ہیں۔
اس فرقے کے مرد اپنا زیادہ تر وقت مذہبی تعلیم حاصل کرنے میں گزارتے ہیں جبکہ خواتین امورخانہ داری اور اپنے خاندان کا خیال رکھنے میں وقت گزارتی ہیں۔
اسرائیل کی مجموعی آبادی کا 13 فیصد حصہ حریدی یہودیوں پر مشتمل ہے اور یہ فرقہ ملک میں اچھا خاصا سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

اسی کے ساتھ عوامی مقامات پر مرد و خواتین کی علیحدگی، مذہبی تعلیمات کے فروغ اور دیگر حکومتی اقدامات نے اسرائیل میں مذہبی اور لبرل طبقات کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

مہنگائی بھی اہم مسئلہ 
اگرچہ اسرائیلی معیشت مجموعی طور پر مضبوط مانی جاتی ہے، تاہم رہائش اور خوراک کے اخراجات دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔

2023 کے بعد دفاعی بجٹ تقریباً دو گنا ہونے سے حکومتی مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی، رہائشی اخراجات اور معاشی مشکلات بھی اس انتخاب میں ووٹروں کے اہم ترین مسائل میں شامل ہو گئے ہیں۔

نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی
رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق 7 اکتوبر کے حملے کے بعد وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا مضبوط  رہنما ہونے کا تاثر کمزور پڑا ہے۔ان کے ممکنہ حریفوں میں سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ، سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ، اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ اور سابق وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نمایاں ہیں۔

تاہم اسرائیل کے نمائندگی کے تناسب پر مبنی انتخابی نظام کے باعث انتخابات کے بعد بھی حکومت سازی کا انحصار مختلف جماعتوں کے درمیان پیچیدہ اتحادی مذاکرات اور سیاسی جوڑ توڑ پر ہی ہوگا۔