اسپین۔مراکش سرحد پر بڑا بحران، 19 ہلاکتوں کے بعد نگرانی مزید سخت،یورپ میں سیاسی ہلچل

Published On: 31 July, 2026 05:40 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
اسپین۔مراکش سرحد پر بڑا بحران، 19 ہلاکتوں کے بعد نگرانی مزید سخت،یورپ میں سیاسی ہلچل

(فوٹورائٹرز)

اسپین کے علاقے سیوٹا میں 24گھنٹوں کے دوران تقریباً 50 ہزار افراد کی غیرقانونی داخلے کی کوشش نے یورپ میں تارکین وطن کے بحران کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ اسپین اورمراکش نے سرحدی نگرانی مزید سخت کردی ہے جبکہ اس واقعے پریورپی ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کرگئے ہیں۔

 اسپین اور مراکش نے آج(جمعے)  سیوٹا(Ceuta) کی سرحد پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں، جس کے بعد ایک روز کے دوران ہونے والی بڑے پیمانے کی غیرقانونی دراندازی کو بڑی حد تک روک دیا گیا۔ سیوٹا اسپین کا خودمختار علاقہ ہے ۔

اسپین کے قومی سلامتی کے محکمے کے مطابق ابتدائی اندازے کے مطابق  گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 49 ہزار سے زائد افراد سمندر اور خشکی کے راستے غیرقانونی طور پر سیوٹا میں داخل ہوئے۔ تاہم اس کےبعد  یہ بیان سرکاری ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا اور اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

حکام کے مطابق اس دوران کم از کم 19 افراد کی لاشیں سمندر سے ملی ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیوٹا، جو مراکش کے شمالی ساحل پر واقع اسپین کا ایک چھوٹا خودمختار علاقہ ہے، یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدوں میں شامل ہے۔ جمعرات کو ہونے والی غیرمعمولی نقل مکانی نے یورپ بھر میں تشویش پیدا کر دی۔

مراکش کی سرحدپر سخت سکیورٹی
سرحدی داخلی راستوں پر مراکشی سکیورٹی فورسز نے واٹر کینن گاڑیاں تعینات کیں اور ہجوم کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ جھڑپوں کے بعد علاقے میں ایک جلی ہوئی بس اور سات گاڑیاں بھی دیکھی گئیں۔

دوسری جانب اسپین نے اعلان کیا ہے کہ غیرقانونی طور پر داخل ہونے والوں کو جلد از جلد واپس بھیجنے کی کوشش کی جائے گی، اگرچہ حالیہ عدالتی فیصلے نے فوری بے دخلی کے بعض اختیارات کو محدود کر دیا ہے۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز(Prime Minister Pedro Sanchez ) نے وزیر داخلہ فرنینڈو گراندے مارلاسکا (Interior Minister Fernando Grande-Marlaska)کے ہمراہ سیوٹا کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔

عدالتی فیصلہ بھی سبب؟
اسپین کے وزیر برائے علاقائی پالیسی اینجل وکٹر ٹوریس(Territorial Policy Minister Angel ​Victor Torres) کے مطابق حالیہ بحران کی ایک ممکنہ وجہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بھی ہو سکتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ سیوٹا(Ceuta) یا میلیلا(Melilla) پہنچنے کی کوشش کرنے والے سمندری تارکین وطن کو مختصر کارروائی کے بعد فوری واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلوں اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے تارکین وطن کی واپسی کا عمل مکمل کرے گی۔

ہزاروں افراد سرحد کے دوسری جانب جمع مراکش کی سرحدی بستی فنیدق( Fnideq) میں ہزاروں تارکین وطن جمع رہے۔ اگرچہ سکیورٹی سخت ہونے کے باعث زیادہ تر افراد سرحد عبور نہ کر سکے، تاہم کئی گروہ ساحلی راستوں سے باڑ کا متبادل راستہ تلاش کرتے رہے اور بعض افراد نے تیر کر جانے کی تیاری بھی کی۔

یورپ میں سیاسی ہلچل
واقعے کے بعد فرانس نے اسپین کی سرحد پر نگرانی بڑھانے کا اعلان کیا، جبکہ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی(Giorgia Meloni) نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کی معطلی سمیت غیرمعمولی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

فن لینڈ کے وزیر داخلہ نے بھی اٹلی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

ادھر فرانس کی دائیں بازو کی رہنما مرین لے پین(Marine Le Pen) نے کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں تو شینگن کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کو صرف یورپی شہریوں تک محدود کر دیں گی۔

 اسپین اوراٹلی کے بیچ سفارتی کشیدگی
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیوتجانی (Antonio Tajani) نے اسپین کی جانب سے لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کی پالیسی کو موجودہ بحران کی ایک وجہ قرار دیا۔

اس کے جواب میں اسپین کے وزیر خارجہ جوزمینوئل الباریس(José Manuel Albares) نے اس بیان کو نامناسبقرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپین اپنے یورپی شراکت داروں سے سیاسی تنقید نہیں بلکہ یکجہتی کی توقع رکھتا ہے، اور اٹلی کے سفیر کو احتجاج کے لیے طلب کیا جائے گا۔