(فوٹواے پی)
امریکہ نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے پانچ ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ان کے پاس مستند ذرائع سے یہ معلومات پہنچی ہے کہ ایران میں قتلِ عام بند ہو چکا ہے اور وہاں پھانسی کی سزاؤں پر بھی عمل درآمد نہیں ہوگا ۔
ایران پرامریکی حملے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے ۔ فوجی کارروائی بھلے ہی نہ ہوئی ہو لیکن امریکہ نے ایران کی معیشت کو مزید چوٹ پہنچانے کے لیے وار کردیا ہے۔ اس نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر25فیصد ٹیرف لگانے کا گزشتہ دنوں اعلان کیا اور اب اس نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایران پردباؤ بنائے رکھنے کے حربے کے تحت کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے پانچ ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکہ کی وزارت خزانہ کا
کہنا ہے کہ وہ ایرانی لیڈروں کی اُن رقوم پر نظرہے جو دنیا بھر کے بینکوں کو منتقل کی جا رہی ہیں۔امریکہ کی جانب سے عائد نئی پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں سپریم کونسل برائے قومی سلامتی کے سکریٹری ڈاکٹر علی لاریجانی کے ساتھ ساتھ اسلامی انقلابی گارڈ کور اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈر شامل ہیں۔
جمعرات کو ایک ویڈیو پیغام میں وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے لیڈروں کے لیے واشنگٹن کا پیغام بالکل واضح ہے،
امریکی محکمہ خزانہ جانتا ہے کس طرح آپ عوام سے لوٹے ہوئے پیسے دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں۔ جان لیں ہم ان رقوم کا سراغ لگالیں گے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ اب بھی وقت ہے ہمارا کہا مانیں جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ تشدد بند کریں اورایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ان کا کہنا ہے کہ آزادی اور انصاف کی پکار میں امریکہ ایرانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے مزید 18 افراد پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔ اُن پر ایرانی پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غیر ملکی منڈیوں تک منتقل کرنے اور اس رقم کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مستندذرائع اور ٹرمپ کا دعویٰ
اس سے قبل،صدر ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ان کے پاس مستند ذرائع سے یہ معلومات پہنچی ہے کہ ایران میں قتلِ عام بند ہو چکا ہے اور وہاں پھانسی کی سزاؤں پر بھی عمل درآمد نہیں ہوگا ۔ تاہم انھوں نے مزید کہا تھا کہ ان یقین دہانیوں کے باوجودایران کے طرز عمل پرہماری نگاہ رہے گی۔تاہم انھوں نے صاف کیا کہ اگر دوبارہ کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے یا پھانسی کی سزا دی جاتی ہے تو اس صورت میں امریکہ کا ردعمل سخت ہوگا۔
ایران میں اضطراب آمیز خاموشی
جمعرات کو ایران میں حکومی مخالف احتجاج کی شدت نظر نہیں آئی، احتجاج کے بھڑکتے شعلے اب دب سے گئے ہیں ۔ سڑکوں پر جابجاتباہی کے نشانات ہیں ۔ آگ زنی تھم گئی ہے اور فائرنگ کی آوازیں بھی کم سے تر رپورٹ کی گئی ہیں ۔ کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 2,615 افراد کی ہلاکت کی خبرہے۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر جمعرات کی صبح بغیر کسی وضاحت کے چند گھنٹوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں، جواس سے قبل بھی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران کیا جا چکا ہے۔ امریکا نے بھی قطر کے العدید ایئر بیس سے اپنے کچھ اہلکاروں کو منتقل کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔




