ایران کا ڈیاگو گارشیا پرحملہ، ایران کی نطنز جوہری تنصیب کوبنایاگیا نشانہ

Published On: 21 March, 2026 08:11 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ایران کا ڈیاگو گارشیا پرحملہ، ایران کی نطنز جوہری تنصیب کوبنایاگیا نشانہ

ڈیاگوگارشیا میں امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ فوجی اڈہ (فوٹو اے پی)

ایران نے ڈیاگو گارشیا میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغ کر یہ اشارہ دے دیا ہے کہ امریکی اہداف اس کی زد میں ہیں ۔ ایران کی جوہری تنصیب نطنز کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔


خلیجی جنگ انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ساتھ مزید سیمابی ہوگئی ہے ۔ بالخصوص جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد اس میں شدت آئی ہے جو ہنوزبرقرار ہے بلکہ اس میں نئی جہت کا اضافہ بھی ہورہا ہے ۔ایران نے  ڈیاگو گارشیا میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغ کر یہ اشارہ دے دیا ہے کہ امریکی اہداف اس کی زد میں ہیں ۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کا کوئی میزائل ہدف تک نہیں پہنچا جبکہ ایک میزائل کے راستے میں ہی ناکام ہونے کی اطلاع ہے۔دوسرے میزائل کو امریکی بحریہ نے روکنے کی کوشش کی تاہم مکمل تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ یہ حملہ براہِ راست نقصان سے زیادہ طاقت کا مظاہرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ 

خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی رینج 2000 سے 2500 کلومیٹر کے درمیان ہے۔


واضح رہے کہ برطانیہ نے امریکہ کو ڈیاگو گارشیا سے دفاعی نوعیت کی فضائی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔امریکہ نے بحرِ ہند میں واقع اس برطانوی اڈے سے کوئی فضائی کارروائی کی ہے یا نہیں اس حوالے سے تاحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔البتہ امریکہ نے گلوسٹرشائر میں آر اے ایف فئیر فورڈ سے فضائی حملے کیے ہیں۔

کہاں ہے ڈیاگو گارشیا؟

ڈیاگو گارشیا جزیرہ ایران کے جنوبی جغرافیائی مقام، پاسبندر کی بندرگاہ سے 3,800 کلومیٹر دور ہے۔ 60 جزیروں پر مشتمل ڈیاگو گارشیا  1814سے برطانیہ کے کنٹرول میں ہے ۔ اس ایئربیس پر تقریبًا 2500 فوجی ہیں ان میں بیشتر امریکی ہیں ۔

1960 اور 1970 کی دہائیوں میں، برطانیہ نے ڈیاگو گارشیا سے تقریباً 2,000 لوگوں کو بے دخل کیا تاکہ امریکی فوج وہاں اڈہ بنا سکے۔

 اس جزائر سے ویتنام،عراق،افغانستان حتیٰ کے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف حملے کیے گئے تھے ۔


 نطنز جوہری تنصیب پر حملہ
ادھر، وسطی ایران میں واقع نطنزجوہری تنصیب کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔28 فروری سے جاری امریکہ اوراسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران نطنز جوہری تنصیب پر کئی بار حملے کئے جاچکے ہیں -
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI)   نے کہا ہے کہ تابکار آلودگی سے متعلق تکنیکی اور ماہرین کی جانچ مکمل کر لی گئی ہے۔ اس تنصیب سے تابکار مواد کے کسی بھی اخراج کی اطلاع نہیں ہے۔

تنظیم نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ این پی ٹی اور جوہری سلامتی و تحفظ سے متعلق دیگر ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ واضح رہے کہ تنظیم اس جوپری تنصیب پر یکم اور تین مارچ کو بھی کیے گئے حملوں کی تصدیق کرچکی ہے۔ 

جون 2025 میں امریکہ کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات نطنز، فردو اور اصفہان پر بمباری کی گئی تھی۔ان حملوں کے بعد امریکی صدرڈرمپ نے ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔