علامتی تصویر
پائلٹ کی بازیابی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نےٹروتھ سوشل پر اپنے پوسٹ میں ایران کو دھمکی دی ہے۔ انھوں نے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
جنگ کا میدان ہو یا سیاسی محاذ لیڈر کے گفتار ،انداز اورعمل میں وقار ہونا چاہیے لیکن سُپر پاور امریکہ کے صدر ٹرمپ میں یہ باتیں تلاش کرنا بے سود ہے ۔ تازہ پوسٹ میں ٹرمپ کی شبیہ کھل کرسامنے آئی ہے۔ پائلٹ کی بازیابی کے بعد انھوں نے فاتحانہ انداز میں ایران کو دھمکی دی ہے ۔
ٹرمپ لکھتے ہیں کہ منگل (6 اپریل) کو ایران کے بجلی گھروں اور پلوں پر حملے کیے جائیں گے۔اس جیسا کچھ نہیں ہوگا، آبنائے ہرمز کو کھولو.......... نہیں تو تمہاری زندگی جہنم بن جائے گی، دیکھتے جاؤ۔
اس پوسٹ سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ان کا خود اور جنگ پر کنٹرول نہیں ہے۔ جنگ کے آغاز میں انھوں نے جو اہداف طئے کیے تھے وہ مکمل طور پرحاصل نہیں کر پائے ہیں اس لیے اول جلول باتیں کررہے ہیں ۔
ادھر، ٹرمپ کی دھمکیوں کا ایران پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ اس نے کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین پر حملے کیے ہیں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے امریکہ کے دو C-130اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ڈیڈلائن بھی کچھ ہی گھٹوں میں ختم ہونے والی ہے ۔ ٹرمپ اس کی یاد دہانی اپنے سابقہ پوسٹ میں کرا چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے کوئی اشارہ نہ ملنے ٹرمپ برہم ہوگئے ہیں ۔
پیرکے روز امریکی فوج نے جوکھم بھرا مشن انجام دیا اورایف - 15کے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بازیاب کر لیا گیا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس کی تصدیق کی ۔ انھوں نے اپنے پوسٹ میں پائلٹ کے محفوظ مگر زخمی ہونے بات بھی کہی ۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور خصوصی فورسز نے حصہ لیا۔




