فوٹو فری پِک
زیادہ مقدار میں نمک کا استعال فشار خون سمیت سنگین طبی مسائل کا باعث ہوسکتا ہے۔ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ نمک دل کی ناکامی کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
نمک کے بغیر کھانا نامکمل ہے۔ کھانے میں نمک حسب ذائقہ نہ ہو تو کھانے کا ذائقہ جاتا رہتا ہے۔ طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق دن بھر میں 2300 ملی گرام (ایک کھانے کا چمچ) نمک ہی استعمال کرنا چاہئے۔
تاہم بیشتر افراد زیادہ مقدار میں نمک استعال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں فشار خون سمیت سنگین طبی مسائل وقت کے ساتھ ابھرنے لگتے ہیں۔ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ نمک دل کی ناکامی کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
امریکے کے نیش وِلے میں واقع وینڈربلٹ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ نمک (سوڈیم) کا استعمال خاص طور پر حساس افراد میں دل کی ناکامی کاسبب بن سکتا ہے۔
جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی ایڈوانسز میں یہ اسٹڈی شائع ہوئی ہے۔ اس ریسرچ میں جنوب مشرقی امریکہ کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے 25 ہزار 300 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق شرکاء اوسطاً تجویز کردہ مقدار سے تقریباً 2 گنا زیادہ نمک استعمال کر رہے تھے جس کے سبب دل کی نئی بیماری کے خطرے میں 15 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ماہرین کے مطابق روزانہ نمک کے استعمال میں ہر اضافی 1000 ملی گرام سے دل کی ناکامی کے خطرے میں 8 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، چاہے موٹاپا، کولیسٹرول یا بلڈ پریشر جیسے عوامل کو مدنظر ہی کیوں نہ رکھا جائے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ سوڈیم کا استعمال 2300 ملی گرام تک محدود رکھنا چاہیے، جبکہ تحقیق میں شامل افراد اوسطاً 4269 ملی گرام نمک استعمال کر رہے تھے۔
ماہرین نے کہا کہ نمک کے استعمال میں معمولی کمی بھی دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔




