صدرٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے منگل کی ڈیڈلائن حتمی ہے، جنگ فوراً ختم ہوسکتی ہے اگر ایران وہ کرے جو اسے کرنا چاہیے، ہماری دی گئی تجاویز بہت اہم ہیں۔ ادھر، ایران نے امریکہ کی تجویز کومستردکردیا ہے۔ وہ عارضی حل کے حق میں نہیں بلکہ جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔
ایران نے امریکہ کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا ہے ۔ اس نےواضح کردیا ہے کہ وہ جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے جنگ بندی نہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے اپنا جواب پاکستان کے توسط سے امریکہ کو دے دیا ہے۔ ایران کے جواب میں عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے جنگ کے مستقل خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیاہے۔
ایران کے اس جواب میں 10 نکات شامل تھے، جن میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کا طریقہ کار، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو شامل ہیں۔
ادھر،امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سالانہ ایسٹر تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایران کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ایک تجویز پیش کی ہے، یہ ایک اہم تجویز ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت میں شامل معقول لوگوں سے بات چیت جاری ہے۔
جنگ کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ایران میں ہم ناقابل یقین حد تک اچھا کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ایران پر قبضہ کرنا ایک رات کی بات ہے اور وہ کل کی رات ہوسکتی ہے۔
اس دوران انھوں نے پائلٹ کے ریسکیو کے لیے کیے گئے کامیاب فوجی آپریشن کا تذکرہ بھی کیا۔
خیال رہے کہ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران نے منگل کی شام 8 بجے (EDT) یعنی نصف شب (GMT) تک عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستہ(آبنائے ہرمز) کھولنے کا معاہدہ نہ کیا تو ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کردیا جائے گا۔ انھوں نے آج (پیر) کو پھر یہ باتیں دہرائیں ۔
ایران نے 28 فروری سے ایران پر مسلط کردہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد ایران نے ان دونوں ملکوں کے جہازوں پر پہرہ بٹھا رکھا ہے۔واضح رہے کہ توانائی کی ترسیل کے لیے یہ آبی گزرگاہ اہم ہے ۔دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔




