امریکہ۔ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اسٹیج سیٹ، ٖپُراُمید سارا جہاں

Published On: 10 April, 2026 08:29 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
امریکہ۔ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اسٹیج سیٹ، ٖپُراُمید سارا جہاں

جے ڈی وینس (فوٹو اے پی)

امریکہ۔ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اسٹیج سیٹ ہے۔ امریکی نائب صدر جے وینس پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے ہیں اور ایرانی وفد کی آمد بھی اسلام آباد میں متوقع ہے

 امریکہ۔ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اسٹیج سیٹ ہے۔ امریکی نائب صدر جے وینس پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے ہیں اور ایرانی وفد کی آمد بھی اسلام آباد میں متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد روانہ ہونے سے قبل ، جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ بات چیت کے تعلق سے پُراُمید ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ مذاکرات کا منتظر ہے۔ اگر ایران خیرسگالی کا مظاہرہ کرتا ہے تو امریکہ کھلے دل سے آگے بڑھنے کو تیار ہے ۔ جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیااور چالاکی کی کوشش کی تو امریکی مذاکراتی ٹیم مثبت ردعمل نہیں دے گی۔

امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور صدرٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے بھی مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ بات چیت ہفتے کو ہوگی۔

 ایران کی جانب سے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کی شرکت وفد میں متوقع ہے۔تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی وفد میں پاسداران انقلاب کا کوئی نمائندہ ہوگا یا نہیں۔ خیال رہے کہ باقر قالیباف آئی آر جی سی کے سابق کمانڈر ہیں ۔

ادھر، بات چیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت بندوبست کیے گئے ہیں۔اسلام آباد کے ریڈ زون کو خاردار تار لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ ریڈ زون میں سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

شہر میں چیک پوائنٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سکیورٹی کے لیے تعینات ہیں ۔

بات چیت کا مقصد واضح ہے لیکن فریقین کے بیچ اعتماد کی کمی ہے۔ سابقہ تجربات کی روشنی میں ایران کو امریکہ باتوں پربھروسہ نہیں ۔ ایجنڈا جنگ کا خاتمہ اور دیرپا ان کا قیام ہے لیکن شرائط پر ایک یا دو نشستوں میں بڑی پیش رفت کا امکان کم نظر آرہا ہے تمام عدم اعتماد اور خدشات کے درمیان اسلام آباد مذاکرات اچھی شروعات مانا جاسکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے ہرم پر کنٹرول اور یورینیم افزودگی کا معاملہ ایران کی جانب سے سرخ لکیر ہوسکتی ہے۔ایران نے عندیہ دیا ہے کہ کسی مستقل معاہدے کی صورت میں وہ اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کے انخلاء اور ایران کےاتحادی مسلح گروپوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ،ایران اپنے جوہری پروگرام کے تحت یورینیم افزودگی کا حق برقرار رکھنا چاہتا ہے، جسے امریکہ مسترد کر چکا ہے اور اسے ناقابلِ مذاکرات قرار دیتا ہے۔