(فوٹواے پی)
چین ہیومنائیڈ روبوٹس کے شعبے میں تحقیق و ترقی پر دھیان دے رہا ہے۔ کمپنیوں کی نگاہیں اس شعبے میں وسیع ترامکانات پر ہیں ۔ اسی کڑی میں ہیومنائیڈ روبوٹ کے ہاف میراتھن کا انعقاد بیجنگ میں کیا گیا۔ اس میراتھن کی خاص بات یہ رہی کہ روبوٹ نے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ ہاف یراتھن کے انسانی عالمی ریکارڈ کو بھی توڑ دیا۔
چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور نمایاں سنگ میل عبور کر لیا ہے، جہاں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے ہاف میراتھن دوڑ میں نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ انسانی عالمی ریکارڈ کو بھی توڑ دیا۔ یہ غیر معمولی واقعہ اتوار کے روز بیجنگ اکنامک ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ ایریا میں منعقدہ ایک خصوصی مقابلے کے دوران پیش آیا، جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
چینی اسمارٹ فون بنانے کمپنی آنر کے تیار کردہ روبوٹ نے 21 کلومیٹر طویل فاصلہ صرف 50 منٹ اور 26 سیکنڈ میں طے کیا۔ اس طرح اس نے یوگنڈا کے عالمی ریکارڈ ہولڈر ایتھلیٹ جیکب کیپلیمو(Jacob Kiplimo,) کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا، جنہوں نے حال ہی میں لزبن روڈ میراتھن میں یہی فاصلہ تقریباً 57 منٹ میں مکمل کیا تھا۔ اس پیش رفت کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ مقابلہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف تھا، جہاں اس وقت جیتنے والے روبوٹ نے دو گھنٹے سے زائد وقت لیا تھا۔ اس سال نہ صرف رفتار میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا بلکہ روبوٹس کی کارکردگی اور استحکام میں بھی واضح بہتری نظر آئی۔ تاہم، مقابلہ مکمل طور پر خامیوں سے پاک نہیں تھا، کیونکہ کچھ روبوٹس آغاز میں ہی گر گئے جبکہ بعض راستے میں رکاوٹوں سے ٹکرا گئے۔
آنر کے انجینئر دو شیاودی کے مطابق روبوٹ کا ڈیزائن انسانی ایتھلیٹس سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے، جس میں لمبی ٹانگیں اور جدید لیکوئیڈ کولنگ سسٹم شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو صنعتی شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جہاں مضبوطی اور کارکردگی اہم ہو۔
تماشائیوں نے اس منفرد مقابلے کو بے حد دلچسپی سے دیکھا اور روبوٹس کی کارکردگی کو حیران کن قرار دیا۔ کئی افراد کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ ایک نئے دور کی شروعات کا اشارہ ہے، جہاں مشینیں انسانی صلاحیتوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اس کی عالمی برتری کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بیجنگ کا حالیہ پانچ سالہ منصوبہ بھی سائنسی ترقی کو اولین ترجیح دیتا ہے، جس میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیز رفتار ترقی شامل ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف کھیلوں بلکہ صنعت، دفاع اور معیشت کے شعبوں میں بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے، اور یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان مقابلہ کس حد تک بڑھ سکتا ہے۔




