(فوٹواے پی)
نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز کین ولیمسن نے کرکٹ کو الوداع کہہ دیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ان کے شاندار کریئر پر پردہ گر گیا پے۔ اپنے 16 سالہ بین الاقوامی سفر کے دوران انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 33 سنچریاں اسکور کیں ۔
نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز کین ولیمسن نے کرکٹ کو الوداع کہہ دیا ہے۔ انھوں نے آج (جمعہ،12جون) فوری طور پر انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔اس اعلان کے ساتھ ہی ان کے شاندار کریئر پر پردہ گر گیا پے۔ اپنے 16 سالہ بین الاقوامی سفر کے دوران انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 33 سنچریاں اسکور کیں ۔ ولیمسن کا شمار دور جدیدکے بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان نیوزی لینڈ کی مردوں کی کرکٹ ٹیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا، جب کہ تفصیلی بیان نیوزی لینڈ کرکٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔
جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ نیوزی لینڈ کے سب سے زیادہ رن بنانے والے آل فارمیٹ بلے باز اور ملک کے عظیم ترین بیٹر کین ولیمسن نے فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے ۔ ان کے اعلان کے ساتھ 16 سالہ شاندار بین الاقوامی کریئر کا اختتام ہو گیا، جس میں انہوں نے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 378 میچ کھیلتے ہوئے متعدد ریکارڈ قائم کیے اور دنیا بھر میں عزت و احترام حاصل کیا۔
35 سالہ ولیمسن نے ٹیسٹ کرکٹ میں 9,515 رن 54.06 کی اوسط سے بنائے، جن میں 33 سنچریاں شامل ہیں جبکہ ان کا سب سے بڑا اسکور 251 رن رہا۔
انہوں نے ایک روزہ بین کرکٹ میں 7,256 رن 48.69 کی اوسط سے اسکور کیے، جن میں 15 سنچریاں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کے مجموعی رن 2,575 رہے۔
سابق کپتان ولیمسن کا کہنا تھا کہ اب انہیں محسوس ہوا کہ ریٹائرمنٹ کا یہی درست وقت ہے۔انہوں نے کہاکہ میں کافی عرصے سے اس بارے میں سوچ رہا تھا لیکن گزشتہ چند دنوں میں یہ بات واضح ہو گئی کہ اب یہی مناسب وقت ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے میرے اندر ہمیشہ جذبہ اور بھوک موجود رہی اور مجھے فخر ہے کہ میں نے نیوزی لینڈ کے لیے ہر میچ میں اپنی پوری صلاحیت صرف کی۔
نہایت نفیس تکنیک، غیرمعمولی یکسوئی ، ارتکاز اور ہر قسم کے حالات میں بیٹنگ کی صلاحیت رکھنے والے دائیں ہاتھ کے بلے باز ولیمسن کو جدید دور کے چار عظیم بلے بازوں وراٹ کوہلی، اسٹیو اسمتھ اور جو روٹ پر مشتمل مشہور فیب فور کا حصہ مانا جاتا ہے۔
گیند کو آخری لمحے تک کھیلنے کی صلاحیت، نرم ہاتھوں سے دفاع اور بیک فٹ پر شاندار ڈرائیوز ان کے کھیل کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
کبھی کبھار آف اسپن باؤلنگ بھی کرنے والے ولیمسن نے ٹیسٹ کرکٹ میں 30 اور ون ڈے کرکٹ میں 37 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
ولیمسن مخالف ٹیموں میں بھی بے حد مقبول اور قابل احترام شخصیت مانے جاتے تھے۔ 2019 کے ورلڈ کپ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف دل توڑ دینے والی شکست کے باوجود ان کے وقار اور کھیل کے جذبے کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔
دو سال بعد انہوں نے ایک اور سنسنی خیز مقابلے میں نیوزی لینڈ کی قیادت کرتے ہوئے بھارت کو شکست دے کر افتتاحی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اپنے نام کی۔
ولیمسن نے کہاکہ یہ ایک ایسی ٹیم ہے جس سے میں محبت کرتا ہوں اور خود کو خوش قسمت مانتا ہوں کہ اتنے طویل عرصے تک اس کا حصہ رہا۔ یہ ٹیم ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گی۔ میں یہ یقین لے کر جا رہا ہوں کہ اس گروپ کا مستقبل روشن ہے۔ یہاں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور یہ ٹیم کچھ خاص کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ روب والٹر(Rob Walter) نے ولیمسن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ
جس کسی کو بھی کین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، وہ جانتا ہے کہ وہ ایک غیرمعمولی کھلاڑی اور انسان ہیں۔ ان کے اعدادوشمار اور بیٹنگ کی مہارت خود ان کی عظمت بیان کرتے ہیں لیکن بلیک کیپس اور عالمی کرکٹ کے لیے ان کی اہمیت ہی ان کی اصل میراث ہوگی۔
انہوں نے مزید کہاکہ کین نے ہمیشہ ٹیم کو اپنی ذات پر ترجیح دی۔ اگرچہ ہمیں ان کے جانے کا افسوس ہے، لیکن ہمیں خوشی ہے کہ وہ اپنے فیصلے سے مطمئن اور پُرسکون ہیں۔ولیمسن کی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب نیوزی لینڈ ، انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیل رہا ہے، جس کا دوسرا ٹیسٹ آئندہ بدھ کو اوول میں شروع ہوگا۔
اس کا مطلب ہے کہ نیوزی لینڈ کے لیے ان کی آخری اننگز لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں 0 اور 18 رن تھیں، جہاں مشکل پچ پر نیوزی لینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ٹیم انتظامیہ کے مطابق انگلینڈ سیریز کے لیے ان کے متبادل کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔




