امریکہ اور ایران کے بیچ معاہدہ آئندہ 24گھنٹوں میں متوقع، شہباز شریف

Published On: 13 June, 2026 07:21 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
امریکہ اور ایران کے بیچ معاہدہ آئندہ 24گھنٹوں میں متوقع، شہباز شریف

(فوٹو اے آئی)

امریکہ اور ایران کے بیچ امن معاہدہ جلد طئے سکتا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس تعلق سے جمعے کو عندیہ دیا تھا اب ثالث پاکستان نے ممکنہ معاہدے پرپیش رفت کی بات کہی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

 پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے تعلق سے پیش رفت پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے اور امکان ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ  معاہدے کی تکمیل کے فوراً بعد اس پر الیکٹرانک دستخط کیے جائیں گےآئندہ ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی منعقد ہوں گے تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

شہبازشریف نے  مذاکراتی عمل میں مسلسل تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے پر دونوں فریقوں امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ 28 فروری کوامریکہ اور اسرائیل نے حملوں کا آغاز کیا تھا اورایران پر جنگ مسلط کی گئی تھی۔ ان حملوں کے جواب میں  ایران نے خلیج میں امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے اور لبنان میں حزب اللہ  نے اسرائیل پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع دوبارہ بھڑک اٹھا۔


معاہدے میں کیا شامل ہے؟
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ(12 جون) کے روز کہا کہ اگرچہ معاہدے میں اب بھی تبدیلیاں ممکن ہیں، لیکن مجوزہ اتفاقِ رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا ملک اس تنازع سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔

انہوں نے جمعہ کو سرکاری ٹیلی ویژن پر کہاکہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایران فاتح رہا ہے۔

مذاکرات میں شامل تمام فریقوں کے ذرائع کے مطابق، مجوزہ مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شق شامل ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ شروع کرنے کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا ، اس کے بعد کیے جائیں گے۔

ایک امریکی عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، جمعہ کو میڈیا کو بتایا کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کے بنیادی اہداف پورے کرتا ہے اور مذاکرات کو بہت، بہت اچھی پوزیشن میں لے آیا ہے۔

متعدد ذرائع کی جانب سے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتائی گئی مسودہ شرائط کے مطابق، امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے اربوں ڈالر جاری کرنا شروع کرے گا اور اس کی تیل برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا، جس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔

ایران کے جوہری پروگرام پر 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران بات چیت کی جائے گی۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ بالآخر ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر منتج ہوگا، جس کے تحت اس کے اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تباہ کر کے ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔

تاہم، عراقچی نے کہا کہ ایران ، جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے کو قبول نہیں کیا ، افزودہ یورینیم کو کم افزودگی والی شکل میں اپنے پاس برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، تجاویز میں تہران کے لیے ممکنہ جنگی ہرجانے پر بات چیت اور ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کے حوالے سے امریکہ کے دیرینہ مطالبات ترک کرنے پر بھی غور شامل ہے۔ تاہم، امریکی عہدیدار نے اس دعوے کی تردید کی۔