ٹونی بلیئر(فوٹواے پی)
ٹرمپ منصوبےکے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس بورڈ میں امریکہ، یورپ اور اسلامی ملکوں سے بھی شخصیات شامل ہیں۔ استحکام فورس کے لیے امریکی جرنیل کو کمانڈر مقررکیا گیاہے۔
ٹرمپ منصوبےکے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس بورڈ میں امریکہ، یورپ اور اسلامی ملکوں سے بھی شخصیات شامل ہیں۔ استحکام فورس کے لیے امریکی جرنیل کو کمانڈر مقررکیا گیاہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، وائٹ ہاؤس نےصدرڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیاہے۔ بورڈ ممبران میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر،ٹرمپ کے داماد جیرڈکُشنر،امریکی وزیرداخلہ مارکو روبیو اور مشرقی وسطیٰ میں امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو غزہ کے بورڈ آف پیس میں نامزد کیا ہے، جوامریکی صدر کے 20 نکاتی منصوبے کی نگرانی کرے گا۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بلیئر بورڈ کے سات بانی ایگزیکٹو ممبران میں شامل ہوں گے۔غزہ بورڈ آف پیس کے قیام کا مقصدسکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہے۔
برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ اپولو گلوبل منیجمنٹ کے سی ای او مارک روون،ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا اوریوایس ڈپٹی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزررابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
میجرجنرل جیسپرجیفرزعالمی استحکام فورس کے کمانڈرمقرر کیے گئے ہیں۔آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر کیے گیے ہیں جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے جوغزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کا ہر رکن غزہ میں استحکام اور طویل مدتی کامیابی کے لیے ایک متعین پورٹ فولیو کی نگرانی کرے گا، جس میں حکومتی صلاحیت کی تعمیر، علاقائی تعلقات، تعمیر نو، سرمایہ کاری کی ، بڑے پیمانے پر فنڈنگ، اور سرمایہ کاری شامل ہیں، لیکن ان تک محدود نہیں۔
غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے نام سے سینئر حکام کی ایک دوسری کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جومؤثر طرز حکمرانی اور غزہ میں امن، استحکام اور خوشحالی کو آگے بڑھانے والی بہترین خدمات کی فراہمی میں مدد کرے گی۔اس دوسری کمیٹی کے ارکان میں وٹکوف، کشنر، بلیئر، روون، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، سینئر قطری سفارت کار علی تھاوادی، مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد، متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعاون کے وزیر ریم الہاشمی، اسرائیلی،قبرصی تاجر یاکر گابے، اقوام متحدہ کے سابق کوآرڈینیٹر برائے مشرق وسطیٰ اور سی آئی اے کے سابق مشیر برائے انسانی امور نکولے ملاڈینوف شامل ہیں۔




