امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (فوٹواےپی)
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ غیرمشروط طورپرخودسپردگی کردے۔
خلیجی جنگ پوری شدت سے جاری ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل، ایران پر حملے کررہے ہیں تو ایران بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی اثاثوں اور اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ ایران کے مہرآباد ایئرپورٹ کو اتحادی فورسز کی جانب سے نشانہ بنانے کی اطلاع ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بیچ ایران نے یروشلم، بحرین،اردن، یو اے ای سمیت دیگر مقامات پر امریکی اثاثوں پر حملے کیے ہیں ۔ اسرائیل نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کو مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ آٹھ روزہ جنگ کے دوران ایران میں1300 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ۔
اس بیچ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے اور وہاں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں بیان دیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیاپوسٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اب ایران کے لیے واحد قابل قبول راستہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنا بچ گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پرپوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ غیرمشروط طورپرخودسپردگی کردے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ایک ایسی قیادت کا انتخاب کیا جائے گا جو قابل قبول اور بہتر ہو۔انھوں نے کہا کہ،قابل قبول لیڈر کے انتخاب کے بعد، ہم، اور ہمارے اتحادی اور شراکت دار، ایران کو تباہی کے دہانے نکالنے اور معیشت کی بحالی کے لیے انتھک محنت کریں گے، تاکہ اسے اقتصادی طور پر پہلے سے زیادہ بڑا، بہتر اور مضبوط بنایا جا سکے۔
ایران کا واضح وقف
ٹرمپ ایران سے بات چیت نہ کرنے اور غیرمشروط خودسپردگی کی باتیں کررہے ہیں لیکن ایران پر ٹرمپ کی دھمکیوں کا اثر نہ پہلے ہوا اور نہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے بعد ہی اس کے غزائم متزلزل ہوئے ہیں۔ ایران قومی وقار اور خودمختاری کا دفاع کرتے رہنے کی بات دہرارہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان یہ کہہ چکے ہیں کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں اُن ممالک کی جانب ہونی چاہئیں جنہوں نے اس تنازع کو شروع کیا۔




