نہیں جھکے گا ایران، ٹرمپ کومسعودپزشکیان کی دو ٹوک

Published On: 07 March, 2026 04:49 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
نہیں جھکے گا ایران، ٹرمپ کومسعودپزشکیان کی دو ٹوک

ایرانی صدرمسعودپزشکیان (فوٹو اے پی)

قوم سے خطاب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دشمن کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی حال میں غیرمشروط خودسپردگی نہیں کرے گا اوردشمن کو ایسی اُمید ترک کردینی چاہیے۔ وہ یہ خواب اپنے ساتھ قبر میں لے جائے گا۔

ایران دشمن سے آر پار کی لڑائی کے لیے تیار ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق،قوم سے خطاب میں صدر مسعود پزشکیان نے دشمن کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی حال میں غیرمشروط خودسپردگی نہیں کرے گا اوردشمن کو ایسی اُمید ترک کردینی چاہیے۔ وہ یہ خواب اپنے ساتھ قبر میں لے جائے گا۔
اپنے خطاب میں ایرانی صدرپزشکیان نے عوام سے تمام اختلافات بھلا کر متحد ہونے کی اپیل کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک کو امریکہ کی دہشت گرد حکومت اور جرائم پیشہ صیہونی حکومت کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس صورتحال میں اہل وطن کو ایک جٹ ہوکر ملک کے تحفظ کے لیے کھڑے ہونا چاہیے ۔ قوم اس بحران سے سربلند ہوکر نکلنے کے لیے پرعزم ہے اور ایران کی حفاظت کے لیے آخری حد تک کھڑی رہے گی۔


اپنے خطاب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آیت اللہ خامنہ‌ای، فوجی کمانڈروں اور معصوم طلباء کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ آزادی اور انسانیت کے دعویداروں نے بے گناہ بچوں کو نشانہ بنایا۔ دشمن اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ اسپتالوں اور اسکولوں جیسے غیر فوجی مراکز پر بھی حملوں سے گریز نہیں کرتا۔


 ہمسایہ ممالک سے ذاتی طور پر معذرت 
ایرانی صدرمسعود پزشکیاں نے ان ہمسایہ ممالک سے ذاتی طور پر معذرت بھی کی ۔انھوں کہا کہ ایرانی عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق ہمسایہ ملکوں پر صرف اسی صورت میں حملہ کیا جائے گاجب ایران پر حملہ ان ممالک کی سرزمین سے ہوگا۔

واضح رہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے بعد تہران کی جانب سے جوابی کارروائی میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین، عمان اور کویت میں امریکی اڈوں اوراثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

'جنگ نہیں، کھلی جارحیت، 
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گتریز کی جنگ ختم کرنے کی اپیل پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان پرطنز کیاہے۔انھوں نے جواب دیا کہ  آئیے تھوڑا غیرجانبدار رہیں۔ یہ جنگ نہیں، بلکہ کھلی جارحیت ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پراسماعیل بقائی نے لکھا کہ ایران سنجیدہ سفارتی مذاکرات میں مصروف تھا، امریکہ اور اسرائیل نے 9 مہینوں میں دوسری بار ایران پر حملہ کیا۔ 

اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی معیشت کو درپیش خطرےپرتشویش کا اظہار کیے جانے پربھی اسماعیل بقائی  سخت تنقید کی۔ انھوں نے لکھا کہ آپ کو معیشت کی فکر ہےلیکن حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں میناب میں 175 معصوم بچے سمیت دیگر شہریوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو واضح موقف اختیار کرنا چاہیے اور ایران کے خلاف اس غیر قانونی جارحیت کے بارے میں اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو قبول کرنا چاہیے۔