(فوٹو رائٹرز)
مشرق وسطیٰ میں گھمسان جاری ہے۔ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے ۔ دونوں جانب سے حملے اور جوابی حملے کیے جارہے ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق،ایرانی فوج نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی لیڈروں کے ٹھکانوں کونشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران نے سعودی عرب، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اہداف پر حملے کیے ہیں ۔ قطر کی راجدھانی دوحہ میں ہفتے کی صبح دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ۔
ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں ۔ اس نے 10 اسرائیلی لیڈروں کے ٹھکانوں کونشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ایران نے عراق میں اربل کو بھی میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنانا ہے۔ان حملوں سے ہوئے نقصانات کے تعلق سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اس بیچ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے احاطے میں میزائل حملہ ہوا ہے۔ گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے ۔
ایران کے جزیرہ خارگ پرامریکہ کا حملہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈنے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے طاقت ور بم حملوں میں سے ایک کو انجام دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ میں نے جزیرے پر تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم، اگر ایران، یا کسی اور نے، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے آزاد اور محفوظ نقل و حمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کروں گا۔
ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار ڈال دے اورملک میں جو بچا ہے اسے بچا لیں، جو کہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔
اس بیان سے کچھ ہی دیر قبل صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے میڈیا سے بات کی تھی۔ اس دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں یہ جنگ کب تک جاری رہے گی، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تو میں بھی آپ کو نہیں بتا سکتا۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کے امکان کو مسترد کردیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔
مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی تعینات کرنے کا اعلان
میڈیا رپورٹس کے مطابق،امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے 5 ہزار میرینز اور فوجی اہلکاروں کے ساتھ کئی جنگی بحری جہاز بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے حملوں کے لیے مشن شروع کر دیا ہے اور ان حملوں کا ہدف ایران کی مستقبل میں دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی صلاحیت ختم کرنا ہے۔




