ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی(فوٹو گیٹی)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ہمارے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے آبنائے ہرمز بند ہے ۔ دوسری طرف امریکی صدرٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی پولیسنگ کے لیے اتحاد قائم کرنے کی کوششوں کوجھٹکا لگتا معلوم ہورہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے تاہم انھوں نے یہ کہا کہ یہ گزر گاہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہے۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جن ملکوں نے ہمارے خلاف جارحیت کی ان ممالک اور ان کے اتحادیوں کے لیے آبنائے ہرمز بند ہے۔
ان کا یہ تبصرہ حالیہ فوجی پیش رفت کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔ امریکی کیبل نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزرگاہ کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سیکڑوں بحری جہاز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں اضافے کے باوجود کئی ٹینکر اور کارگو جہاز آبنائے سے گزر رہے ہیں لیکن
کچھ شپنگ کمپنیاں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس علاقے سے گریزکررہی ہیں ۔
آبنائے ہرمزکی پولیسنگ
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی پولیسنگ کے لیے امریکی صدر ٹرمپ سات ممالک سے بات چیت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے بحری جنگی جہاز بھیجیں لیکن اس معاملے پرانھیں کوئی خاص حمایت حاصل نہیں ہورہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان اور آسٹریلیا نے سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔ چین نے بھی ٹرمپ کی اپیل پر ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔ چین نے خطے میں کشیدگی میں اضافے کو باعث تشویش بتایا ہے ۔ چین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور موجودہ کشیدگی ان راستوں کو متاثر کر رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت:برطانیہ
اس بیچ آج(پیر15 مارچ) میڈیا سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم سرکیئراسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اس جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ بازارمیں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے تاہم یہ کوئی آسان کام نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ برطانیہ خطے میں جہازوں کے آزادانہ نقل و حمل کو بحال کرنے کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ لانے کے لیے اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرنا کسی بھی وزیر اعظم کے لیے سب سے مشکل کام ہے۔




