اسرائل کے شہر دیمونا میں یزائل حملے سے ہوئی تباہی (فوٹو اے پی)
نطنز ایٹمی تنصیب پر حملوں کے جواب میں ایران نے جنوبی اسرائیل کے شہروں دیمونا اور عراد پر میزائلوں سے حملے کیے جس میں کم سے کم 180 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔
میدان جنگ میں گھمسان کی لڑائی چھڑی ہوئی ہے۔ 23 ویں روز(اتوار،22مارچ) خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
لڑاکا طیاروں کی بمباری اورمیزائلوں اورڈرونوں کے حملے جاری ہیں ۔ لیڈروں کی دھمکیاں اور دعوے بھی جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، نطنز ایٹمی تنصیب پر حملوں کے جواب میں ایران نے جنوبی اسرائیل کے شہروں دیمونا اور عراد پر میزائلوں سے حملے کیے جس میں کم سے کم 180 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔ ان میں کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق عراد میں ایران کے میزائل حملے میں 116 افراد زخمی ہوئے ہیں ان میں 10 افراد شدید زخمی ہیں۔مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کو داخل کرایا گیا ہے ۔میزائل حملے کے نتیجے میں عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
ادھر، دیمونا میں کیے گئے میزائل حملے کے نتیجے میں 64 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں ایک کی حالت ہے۔
واضح رہے کہ دیمونا میں اسرائیل کی اہم جوہری تنصیب موجود ہے جسے طویل عرصے سے اسرائیل غیر معلنہ جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ مرکزصرف تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہےلیکن اب یہ باتیں راز نہیں رہیں۔
دھمکی کا جواب دھمکی سے
اس بیچ ، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا۔
جواب میں ایران نے بھی سخت دھمکی دی ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا تو تہران خلیجی خطے میں اہم انفرسٹرکچر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ایرانی پاور پلانٹس پر حملوں کی صورت میں خطے میں موجود تیل اور توانائی کی تنصیبات کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔




