اے آئی کی دد سے بنائی گئی علامتی تصویر
اسلام آباد میں بات چیت اچھی مگر بے نتیجہ رہی ۔ فریقین کسی قابل قبول معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ۔ بات چیت کی ناکامی کے بعد بڑا سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ کیا جنگ کی آگ پھر بھڑک اٹھے گی؟ سیزفائر کا خاتمہ ہوجا ئے گا یا سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔
اسلام آباد مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے اور بات چیت بے ثمرآور ثابت نہیں ہوسکی ۔ متحارب ممالک کا بات چیت کی میزپر آنا اور شرائط پر طویل تبادلہ خیال کرنا اس مذاکرات کا حاصل ضرور ہے ۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد میڈیا بریفنگ میں اچھی اور بُری دونوں خبرسنائی ۔ انھوں نےکہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ ایران سے بات چیت ہوئی اور بُری یہ کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ۔ انھوں نے دھمکی دی کہ یہ بُری خبر(معاہدے کا نہ ہونا ) ایران کے لیے ہے امریکہ کے لیے نہیں ۔
جے ڈی وینس نے اپنے بیان کہاکہ ہماری سُرخ لکیریں کیا ہیں ان کے تعلق سے ایران کوبتایا دیا گیا تھا لیکن اس نے ہماری شرائط نہ ماننے کا انتخاب کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہم کوئی ڈیل کیے بغیر واپس جارہے ہیں ۔
ادھر، دوسری جانب ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ کے غیر معقول مطالبات کے سبب بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایسے مطالبات پیش کیے جو اسے جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں ہو سکے تھے، جس کے باعث مشترکہ فریم ورک اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں بعض امور پر پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم چند اہم نکات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق دو سے تین اہم نکات پر اختلافات برقرار رہے، جو معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام، جنگی ہرجانے اور پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مکمل امن کے قیام پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار مخالف فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے اور ضروری ہے کہ غیر ضروری مطالبات سے گریز کیا جائے اور ایران کے جائز مفادات کو تسلیم کیا جائے۔
مذاکراتی عمل کے نتائج سے قطع نظر ، امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان کے رول کی ستائش کی گئی ۔ پ
پاکستان نے فریقین سے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا ۔ اس نے اُمید ظاہرکی کہ دونوں کے بیچ آئندہ دس دنوں میں پھر بات چیت ہوسکتی ہے۔اس نے کہا کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے کیونکہ یہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔




