امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ (فوٹو اے پی )
آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی اور تعطل کے درمیان امریکہ اور ایران کے بیچ ایک بارپھر بات ہوسکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ دونوں مالک کے بیچ بات چیت آئندہ دو دنوں میں دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی اور تعطل کے درمیان امریکہ اور ایران کے بیچ ایک بارپھر بات ہوسکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ دونوں مالک کے بیچ بات چیت آئندہ دو دنوں میں دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئندہ دو دنوں میں کچھ ہونے جارہا ہے انھوں نے اشارہ دیا کہ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے روز میراتھن بات چیت ہوئی جو بے نتیجہ رہی تھی ۔ امریکہ اور ایران کے مطابق بات چیت اچھی رہی تھی۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ ایران نے اس کی شرطیں نہیں مانیں جبکہ ایران نے بات چیت کی ناکامی کے لیے امریکہ کے غیر معقول مطالبات کو ذمہ دار ٹہرایا تھا۔
اسلام آباد مذکرات کی ناکامی کے بعد الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ چل پڑا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا جس کا آغا پیر سے ہوگیا ہے ۔
امریکہ کا دعویٰ
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مؤثررہی ہے کوئی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے نہیں گزرا ہے ۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس ناکہ بندی میں 10 ہزار سے زائد فوجی اہلکار، درجنوں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی ان تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہو رہے ہیں یا وہاں سے نکل رہے ہیں جبکہ وہ ان جہازوں کے لیے آزادیٔ جہاز رانی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں جو ایران کی طرف یا ایران سے نہیں آ رہے۔




