بوسنیا کی نسل کشی کے مجرم ملاڈچ پر فالج کا حملہ

Published On: 16 April, 2026 08:11 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بوسنیا کی نسل کشی کے مجرم ملاڈچ  پر فالج کا حملہ

راٹکو ملاڈچ(فوٹواے پی)

سزا یافتہ جنگی مجرم راٹکو ملاڈچ کو مبینہ طور پر معمولی فالج کا دورہ پڑا ہے ۔ دا ہیگ میں ملاڈچ عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اسے 2017 میں بوسنیا کی 1990 کی جنگ کے دوران نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سزا یافتہ جنگی مجرم راٹکو ملاڈچ کو مبینہ طور پر معمولی فالج کا دورہ پڑا ہے ۔ دا ہیگ میں ملاڈچ  عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ ملاڈچ کے بیٹے نے یہ جانکاری میڈیا کو بدھ کے روز دی ۔ 

ملاڈچ کو اقوام متحدہ کے ٹریبونل نے 2017 میں بوسنیا کی 1990 کی جنگ کے دوران نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بوسنیائی سرب جنگ کے وقت راٹکو فوجی کمانڈرتھا اس نے بے قصوروں کو مظالم کے پہاڑ توڑے ۔ سفاک کمانڈر’بوسنیا کا قصاب‘ کےنام سے بدنام ہے ۔ خاص طور پر سرائیوو کے محاصرے اور 1995 میں 8,000 بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کے سریبرینیکا قتل عام میں اس کے کردار کے لیے مجرم پایا گیا تھا۔

ملاڈچ کے بیٹے ڈارکو ملادچ نے بوسنیائی سرب سرکاری  ٹیلی ویژن کے لئے  انٹرویو میں کہا  ہے کہ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ایک  ڈاکٹر نے انہیں ان کے  والد کی صحت کے حوالے سے ابتدائی معلومات فراہم کیں ۔

ڈارکو ملاڈچ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر کے خیال میں یہ ایک ہلکا سا فالج کا دورہ تھا۔اس کے بعد انھیں  ایک سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا۔طبی معائنے کے بعد  دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

ڈارکو کے مطابق ان کے والد کی حالت روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے   کہا ہے کہ ہم ابھی تک دی ہیگ  سے طبی دستاویزات کے منتظر ہیں تاکہ سربیا کے ڈاکٹر ان کا معائنہ کر سکیں۔

انہوں نے   امید ظاہر کی ہے  کہ ان کے 81 سالہ والد کو علاج کے لیے سربیا جانے کی اجازت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ بوسنیا کا قصاب راٹکو ملادچ 16 سال تک سکیورٹی  ایجنسیوں کوچکما دیتا رہا اور بلآخر2011 میں اسے سربیا سے گرفتار کیا گیاتھا۔ 1990 کی دہائی میں بوسنیاجنگ  کے دوران  بوسنیاکے مسلم  باشندوں کے خلاف نسل کشی اور جنگی جرائم کے ارتکاب پر 2017 میں سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل نے ملادچ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

 ہیگ کے حکام کی جانب سے ملاڈچ کی صحت کے بارے میں تاحال کوئی  بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ملاڈچ کے وکلاء طویل عرصے سے اس کے علیل اور کمزور ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور ان دعووں کی بنیاد پر انہوں نے پہلی بار 2017 میں طبی بنیادوں پر عارضی رہائی کی درخواست کی تھی۔ تاہم، جولائی 2025 میں  ہیگ  میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالتوں کے بقیہ میکانزم 'IRMCT' نے صحت کی بنیاد پر بوسنیا کے قصائی کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
 

بوسنیا کا قصاب کس سربیائی کمانڈرکو کہا جاتا ہے؟

0 :کل ووٹ