اے آئی کی دد سے بنائی گئی علامتی تصویر
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے ہیں اور ساتوں جھوٹے ہیں ۔ انھوں واضح کیا کہ ایسے دعوؤں سے امریکہ کو فاتح نہیں سمجھا جاسکتا اور نہ ہی ان سے مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہے۔
صدرٹرمپ مسلسل سرخیوں میں ہیں ۔ میڈیا سے ہمیشہ روبرو ہوتے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں۔ ان کے پاس کہنے کو بہت سی باتیں ہیں ۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران جنگ کی صورتحال سے زیادہ ٹرمپ کی باتیں ہی چھائی رہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور ٹرمپ کے دعوے اسی رفتار سے مسترد بھی کیے جارہے ہیں ۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے ہیں اور ساتوں جھوٹے ہیں ۔ انھوں واضح کیا کہ ایسے دعوؤں سے امریکہ کو فاتح نہیں سمجھا جاسکتا اور نہ ہی ان سے مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرباقر قالیباف نے لکھا کہ امریکہ کی جانب سے آبی گزرگاہ پر رکاوٹیں رہیں تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔ مزید آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کا عمل مخصوص راستوں سے ہوگا اور اس کے لیے ایران کی اجازت لازم ہوگی۔ سوشل میڈیا سے نہیں۔
ایران میں رہے گا افزودہ یورینیم
ادھر،ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کردیا ہے صدرٹرمپ نے جمعے کے روز یہ دعویٰ کیا تھا کہ تہران اپنی افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنے پرآمادہ ہوگیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل بقائی نےکہا کہ ’افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔




