فوٹو رائٹرز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہےکہ ایران سے امن معاہدہ ہونے تک نہ ایرانی اثاثے غیرمنجمد ہوں گے نہ ہی کوئی پابندی ختم ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی اثاثوں کو غیرمنجمدکرنے یا کوئی پابندی ہٹانا معاہدےکا حصہ نہیں بنائیں گے۔
امریکہ اور ایران کے بیچ مکنہ معاہدے کا انتظار دنیا کو ہے لیکن ہنوزاس سمت کوٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے ۔حالانکہ دعویٰ یہ ضرور کیا جارہا ہے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور صدرٹرمپ نے کئی باریہ اُمید بھی جتائی ہےمعاہدہ جلد طئے جائے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے ایک انٹرویو میں صدرٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے منجمد اثاثے بحال نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی امن معاہدے سے پہلے ایران پر عائد پابندیاں اٹھائیں گے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ان اقدامات پر صرف اس وقت غور کریں گے جب کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ سب بعد میں ہوگا۔ اگر وہ مناسب رویہ اختیار کریں اور اچھا کام کریں تو پھر ہم بات چیت شروع کریں گے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ شرط عائد نہیں کر رہے کہ لبنان کو ایران کے ساتھ کسی قلیل مدتی معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ وہ ایسا دیکھنا چاہیں گے لیکن میں اس کا مطالبہ نہیں کر رہا۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کئی ہفتوں سے ایک ممکنہ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں، ورنہ میں ان پر شدید کارروائی کروں گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ خامنہ ای مبینہ طور پر تنازع کے آغاز میں امریکی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ٹرمپ نے کہاکہ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ مجھے معلوم ہے وہ کہاں ہیں یا نہیں لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ مجھے ان کے مقام کا علم ہو۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اصرار ہے کہ حالیہ امریکی حملوں کے باوجود عارضی جنگ بندی برقرار ہے ۔ روبیو نے گزشتہ ہفتے قانون سازوں کو بتایا کہ امریکی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور جنگ بندی کے معاہدے کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ نہیں بن رہیں۔




