فوٹو رائٹرز
ایرانی حملوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد تہران، تبریز اور اصفہان میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران اور اسرائیل کے بیچ کشیدگی میں اضافہ تب ہوا جب لبنان پر مسلسل حملوں کے ردعمل میں صیہونی طاقت پر میزائل حملے کیے گئے ۔ ایران کے حملوں کے جواب میں اسرائیل نے بیتی شب ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے۔ تہران، تبریز، کرج اور اصفہان میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ 8اپریل سے جاری جنگ بندی کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی تصور کی جا رہی ہے۔
یہ حملے اس کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے جب ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائلوں کی ایک لہر داغی تھی۔ ایران نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ لبنان میں اپنی جاری فوجی کارروائیوں کے ذریعے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ ہے، جو لبنان میں تہران کا قریبی اتحادی ہے۔
حملوں اور جوابی حملوں کے بیچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں فریقوں سے حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر مختصر پیغام میں کہاکہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دینی چاہیے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک بڑا اختلاف سامنے آ سکتا ہے۔
اب تک کیا ہوا؟
گزشتہ چند دنوں سے کشیدگی مسلسل بڑھ رہی تھی۔ اتوار کے روز اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملہ کیا جس میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے، حالانکہ 4 جون کو امریکہ کی قیادت میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک اور جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ان حملوں کے چند گھنٹوں بعد ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے۔ تہران نے اسے بیروت حملے کا جواب قرار دیا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے زیادہ تر میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے جب کہ ان کا ملبہ اردن اور مغربی کنارے تک گرا۔اس کے جواب میں اسرائیل نے رات کے وقت وسطی اور مغربی ایران میں حملے کیے، جب کہ اس کےبعد تہران نے حملوں کی دوسری لہر بھی شروع کر دی۔
یمن سے بھی میزائل داغے گئے جن کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی جب کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی دراندازی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہی۔ آج (پیر) صبح سعودی عرب کے علاقے الخرج میں سول ڈیفنس نے ممکنہ سکیورٹی خطرے کے پیش نظر شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کی۔ تاہم بعد میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے ان خبروں کی تردید کی کہ ایران نے الخرج ایئربیس پر حملہ کیا ہے۔
اپریل 8 کی پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے براہِ راست اسرائیل پر میزائل حملہ کیا ہے۔
یہ پہلا موقع بھی ہے جب تہران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں براہِ راست ایرانی سرزمین سے اسرائیل پر میزائل داغے ہیں۔ مارچ کے آغاز سے اسرائیل تقریباً روزانہ لبنان میں حملے کر رہا تھا۔ یہ حملہ ایران کی ان متعدد تنبیہات کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ اگر بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
اس تازہ تبادلۂ حملہ نے اسرائیل-حزب اللہ تنازع اور امریکہ۔ایران مذاکرات کو مزید ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اسی صورت ممکن ہے جب لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں واقعی بند ہوں، جہاں اسرائیلی افواج ملک کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تازہ کشیدگی اس تنازع کی نوعیت کو تبدیل کر سکتی ہے اور اپریل 8 کی جنگ بندی کی حدود کو آزما سکتی ہے۔
کیا اسرائیل نے امریکہ کی مخالفت کی ؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی رات کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بالآخر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنا پڑے گا کیونکہ فیصلے امریکہ کرتا ہے۔
انہوں نے فنانشل ٹائمز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں کہاکہ اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔ فیصلے میں کرتا ہوں۔ تمام فیصلے میں کرتا ہوں۔ وہ فیصلے نہیں کرتا۔
لیکن ٹرمپ کے بیان اور امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کے چند گھنٹوں بعد، جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن کشیدگی کم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل نے ایران کے اندر حملے کر دیے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات حقیقی ہیں یا نہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ اور تلخ کلامی کی خبریں بار بار سامنے آتی رہی ہیں، تاہم امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کی مکمل حمایت جاری رکھی ہے۔
لبنان کی جنگ بندی پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع اب اس تازہ علاقائی کشیدگی کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔اگرچہ 16 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں پہلی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں اپنی پیش قدمی اور قبضہ جاری رکھا۔
یہ لبنان میں گزشتہ پچیس برس سے زائد عرصے کی سب سے بڑی اسرائیلی دراندازی ہے۔ اس وقت اسرائیلی افواج لبنان کے تقریباً 2,000 مربع کلومیٹر (770 مربع میل) رقبے پر قابض ہیں، جو ملک کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے۔
مارچ کے آغاز سے اب تک لبنان میں 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر بھی وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جنہیں وہ حزب اللہ کا گڑھ قرار دیتا ہے۔جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے لبنان میں 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اس تنازع کے ضوابط تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ اسرائیل پر ہونے والے ہر حملے کا جواب بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے کی صورت میں دیا جا سکے۔
تاہم یہ نیا فارمولا عملی شکل اختیار نہ کر سکا کیونکہ تہران نے واضح کر دیا تھا کہ الضاحیہ پر کسی بھی اسرائیلی حملے کے نتائج لبنان سے باہر تک جائیں گے اور بیروت پر حملہ براہِ راست ایرانی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
اس انتباہ کے بعد ٹرمپ نے آخری لمحوں میں سفارتی کوششیں شروع کیں اور کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے بات کی ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے حزب اللہ سے رابطہ کیا ہے، جو ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ امریکہ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور کسی امریکی صدر نے اس سے براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں کیا۔
3 جون کو ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان ایک نئی امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم حزب اللہ نے فوری طور پر اسے مسترد کر دیا۔
اس مجوزہ معاہدے میں حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے شمال میں واپس جانے کا کہا گیا تھا لیکن جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کے بارے میں کوئی ضمانت شامل نہیں تھی، جب کہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا تھا کہ فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔




