ایران کا اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان، سخت وارننگ بھی جاری

Published On: 08 June, 2026 07:49 PM

WhatsApp
Facebook
Twitter
ایران کا اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان، سخت وارننگ بھی جاری

فوٹو اے آئی

ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں فی الحال روک دی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے ایران اور اسرائیل کو فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے روک دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران نے اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں فی الحال روکنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مستقبل میں اسرائیل نے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا حملہ کیا تو اسے سخت اور فوری جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیل کے خلاف کی گئی حالیہ عسکری کارروائیاں جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کی گئی تھیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد لبنان کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کا جواب دینا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل کے خلاف کیا گیا ردعمل دردناک اور مؤثر ثابت ہوا، جس سے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو سبق سیکھنا چاہیے۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا کہ ایران کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، تاہم اگر اسرائیل نے مستقبل میں دوبارہ حملوں یا اشتعال انگیز اقدامات کا راستہ اختیار کیا تو تہران بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔

ایران کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف حملے بند کریں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاسدارانِ انقلاب نے شمالی اسرائیل میں واقع نیوتم ایئر بیس اور تل نوف ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا مقصد تمام محاذوں پر کشیدگی کا خاتمہ تھا، تاہم اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر اس معاہدے کی روح کو نقصان پہنچایا ہے۔