(فوٹواے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کررہےفوج کےجدید اپاچی ہیلی کاپٹر مارگرایاہے۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹس محفوظ ہیں لیکن پھر بھی امیریکہ کو اس حملے کا لازمی طور پر جواب دینا ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس حملے کا جواب دینا ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،ایک ڈرون بوٹ نے اپاچی ہیلی کاپٹر میں سوار دو فوجیوں کو بچا لیا، جب ہیلی کاپٹر اس آبی گزرگاہ کے قریب گر گیا جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران عملاً بند کر رکھا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں فوجی اہلکار محفوظ ہیں اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔ٹرمپ نے لکھا کہ اس کے باوجود، امریکہ کو اس حملے کا جواب دینا ناگزیر ہے۔
ہیلی کاپٹر اس وقت گر کر تباہ ہوا جب مشرقِ وسطیٰ ایک روز قبل ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی فائرنگ کے تبادلے کے اثرات سے ابھی تک سنبھل نہیں پایا تھا، جو ایران جنگ میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا دھچکا تھا۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کو اطلاع دی کہ اسرائیلی حملوں میں ملک کے فضائی دفاعی یونٹوں کے کم از کم دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اس جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور خوراک سمیت روزمرہ استعمال کی کئی اشیاء کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔
حکام اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی مہم کو مزید وسیع اور شدید کر رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حادثہ منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے تین بجے عمان کے ساحل کے قریب اس وقت پیش آیا جب ہیلی کاپٹر گشت پر تھا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ ایک بغیر پائلٹ والی کشتی نے دونوں ہوا بازوں کو اس وقت تلاش کیا جب وہ تقریباً دو گھنٹے تک سمندر میں موجود رہے۔ ان کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی فوج نے سمندر میں کسی ڈرون کے ذریعے ریسکیو آپریشن انجام دیا ہو۔
فوجی حکام نے ہیلی کاپٹر گرنے کی وجہ نہیں بتائی اور کہا کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ابھی معلوم ہوا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے ایران تھا، جس کے بعد انہوں نے یہ الزام عائد کیا۔
اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر امریکی فوج کے لیے ایک اہم اثاثہ رہے ہیں کیونکہ امریکہ ایرانی خام تیل اور ٹینکروں کی ترسیل روکنے کے لیے ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے تاکہ تہران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ان ہیلی کاپٹروں کو ایرانی ڈرون مار گرانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
ٹرمپ کو ایران سے معاہدے کی اُمید
ایران پر امریکی ہیلی کاپٹر گرانے کا الزام لگانے سے قبل ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے نئی امید کا اظہار کیا تھا۔ٹرمپ نے کہاکہ ہمارے پاس دو یا تین دن میں معاہدہ طے پانے کا اچھا موقع ہے۔
تاہم انہوں نے اس امید کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران، جب سے امریکہ اور ایران نے ابتدائی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، ٹرمپ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم ایک بہت اچھے، مضبوط اور طاقت ور معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ اگر ہم بمباری کریں اور مزید دو یا تین ہفتے بمباری جاری رکھیں تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا لیکن پھر آبنائے کئی ماہ تک کھلی نہیں رہے گی۔انہوں نے مزید کہااگر ہم بمباری کرتے ہیں تو بہت سے لوگ مارے جائیں گے۔ کون ایسا چاہتا ہے؟ میں نہیں۔
معاہدہ اور فریقین کے سخت موقف
پاکستان کی قیادت میں ثالث کئی ہفتوں سے معاہدہ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایران اور امریکہ دونوں نے سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی فضائی حملوں کے بعد وہ ملبے تلے دفن ہو چکا ہے لیکن ایران اس مطالبے کو مسترد کر رہا ہے اور پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ حتمی معاہدے سے پہلے اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں، جسے ٹرمپ نے مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق بیانات سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف نے پیر کے روز کہا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات طے شدہ نکات سے متصادم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نہ جنگ بندی چاہتا ہے اور نہ ہی مذاکرات۔




