امریکہ اور ایران آمنے سامنے، جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا عسکری تصادم

Published On: 10 June, 2026 11:55 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
امریکہ اور ایران آمنے سامنے، جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا عسکری تصادم

(فوٹو اے آئی)

امریکہ اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں ۔ آبنائے ہرمز کے قریب اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد امریکہ نے ایران میں مختلف مقامات پر حملے کیے جس کا ایران نے بھرپور جواب دیا ۔ اس نے کویت،بحرین اوراردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  بدھ (10مئی)کے روز کہا کہ ایران نے  معاہدے پر مذاکرات کرنے میں بہت زیادہ وقت لیا ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی، جب کہ تہران نے رات بھر(منگل کے روز) ہونے والے جوابی حملوں کے بعد واشنگٹن کے ساتھ سفارتی روابط پر نظرثانی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جنہیں اس نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی اہداف پر امریکی حملوں کا جواب قرار دیا۔

آبنائے ہرمز کے نزدیک امریکی فوجی ہیلی کاپٹرگرائے جانے کے بعد حملوں اور جوابی حملوں  کا عمل شروع ہوا ۔ دراصل، صدرٹرمپ نے ایران پر ہیلی کاپٹر گرانے کا الزام لگایا تھا حالانکہ ایران نے کہا تھا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے یہ اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی ہے۔

ایران پر مزید حملوں کا عندیہ
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ایران صرف باتیں کرتا ہے، عمل نہیں ۔ انہوں نے ایسے معاہدے پر مذاکرات میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا جو ان کے لیے بہت اچھا ثابت ہوتا، اب انہیں اس کی قیمت چکانی ہوگی!!!

بدھ کے روز ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے  کہاکہ ہم ان پر حملے کریں گے اور بہت سخت حملے کریں گے۔


سینٹ کام کا ایران کے دفاعی نظام کونشانہ بنانے کا دعویٰ
بیتی رات کی کارروائی کے بعدامریکی فوج نے کہا کہ اس نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنوں اور نگرانی کے ریڈار مراکز کو نشانہ بنایا۔ فوج نے اس  کارروائی کو ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے جواب میں متناسب ردعمل قراردیا۔ ہیلی کاپٹر کے دونوں عملے کو ایک ڈرون کشتی کے ذریعے بچا لیا گیا تھا۔


کوئی بڑا نقصان نہیں۔امریکہ
امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ امریکی اہلکار محفوظ ہیں۔ تقریباً تمام میزائل اور ڈرون یا تو روک لیے گئے یا اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

یہ کشیدگی، جو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد چند روز قبل ہونے والے حملوں کے تبادلے کے فوراً بعد سامنے آئی، جنگ کے خاتمے کے امکانات پر مزید سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔

امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط پرایران کرےگا نظرثانی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد، واشنگٹن کے ساتھ سفارتی روابط پر نظرثانی کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ کسی بھی سفارتی عمل کے لیے کم از کم ایک مستحکم ماحول ضروری ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہیں گے کہ آیا وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں پر مزید حملوں کا حکم دیں گے یا نہیں، جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے لیے مزید امریکی چیلنج پیدا کرنا غیر دانش مندانہ ہوگا۔

ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ ایران پہلے ہی ثابت کر چکا ہے کہ وہ ہر قسم کی دھمکی کا مناسب جواب دے گا۔

اگرچہ دونوں جانب سے سخت بیانات دیے جا رہے ہیں، تاہم سفارتی کوششوں کے جاری رہنے کے آثار بھی موجود ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک وفد، جو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے، بدھ کو تہران پہنچا تاکہ تازہ صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔

 آبنائے ہرمز کے گرد حملے

امریکی حملے تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہے اور ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کے قریباً 20 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب  نے کہا کہ قشم جزیرہ اور بندرگاہ سیریک کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب واقع جسک کے اطراف دھماکوں کی بھی اطلاع دی۔

بدھ کے روز ایک آئل ٹینکر کے دو عملہ ارکان لاپتہ اور ایک زخمی ہو گیا۔ برطانوی بحری سلامتی کمپنی ایمبری کے مطابق یہ واقعہ غالباً ایران سے متعلق بحری تجارت کی ناکہ بندی نافذ کرنے والی امریکی افواج کے میزائل حملے کا نتیجہ تھا۔ امریکی سینٹ کام نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے

پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔

اس کے مطابق اردن کے امریکی اڈے ازرق میں چار مقامات کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔، جن میں ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل تھے،

اردن کی فوج نے کہا کہ اس نے الازرق کی جانب داغے گئے پانچ میزائل تباہ کر دیے اور گرنے والے ملبے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

کویت کی وزارت دفاع نے دشمن فضائی اہداف کو تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ بحرین کے شاہی میڈیا مشیر نے ایکس پر کہا کہ بحرینی فضائی دفاع نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔

کویت میں امریکی فوجی تنصیبات، بشمول ایک بڑا فضائی اڈہ، موجود ہیں جبکہ بحرین میں امریکی بحریہ کے علاقائی بیڑے کا ہیڈکوارٹر قائم ہے۔

امن معاہدہ ہنوز دور 

اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے ساتھ امن مذاکرات کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

اس کے بعد سفارت کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ قریب ہےلیکن پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے متعدد بالواسطہ مذاکرات کے باوجود دونوں فریق اب بھی ایک دوسرے سے کافی دور دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان میں اسرائیل اورحزب اللہ کے درمیان جاری متوازی جنگ بھی ختم نہیں ہو سکی۔

لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حزب اللہ نے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی افواج پر مزید حملوں کا دعویٰ کیا۔

کشیدگی اورتعطل کا شکارمذاکرات
ایران کے مطالبات میں پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی اربوں ڈالر مالیت کی رقم کی واپسی، آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کروانا اور لبنان میں لڑائی کا خاتمہ شامل ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی امن معاہدے میں یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔ایران ایسے کسی ارادے کی تردید کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے بدھ کے روز امریکہ کی حمایت یافتہ ایک قرارداد منظور کی، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے باقی ماندہ افزودہ یورینیم کے ذخائر ظاہر کرے اور معائنہ کاروں کو ان کی تصدیق کی اجازت دے۔ایران نے اس قرارداد کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔