غزہ کے معروف ڈاکٹرحسام ابوصفیہ کی عدالت میں پیشی، طبی غفلت اورتشدد کے الزامات

Published On: 12 June, 2026 08:56 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
غزہ کے معروف ڈاکٹرحسام ابوصفیہ کی عدالت میں پیشی، طبی غفلت اورتشدد کے الزامات

(فوٹورائٹرز)

غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ کو عدالت میں پیش کیا گیا ۔ ڈاکٹر صفیہ اسرائیل میں 500 دن سے قید ہیں۔

 اسرائیلی فوج نے 2024 میں غزہ کے آخری فعال اسپتالوں میں سے ایک کمال عدوان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ(Hussam Abu Safiya) کو تحویل میں لیا تھا جنہیں اب عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتی سماعت میں ڈاکٹر ابو صفیہ ویڈیو لنک پر پیش ہوئے اور تصاویر میں وہ انتہائی کمزور دکھائی دیئے۔ اسرائیلی حکام کا الزام ہےکہ ڈاکٹر ابو صفیہ کا حماس سے تعلق ہے لیکن ابو صفیہ کے فلسطینی وکیل ناصر عودہ (Nasser Odeh)کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام اب تک حماس سے تعلق کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں ۔عدالت میں ساعت کے دوران ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں جب کہ  قید کے دوران ان کا وزن 40 کلو کم ہوا۔ 

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی سو فلسطینی ڈاکٹرز صرف الزامات کی بنیاد پر اسرائیلی جیلوں میں ہیں اور متعدد فلسطینی اور کچھ اسرائیلی تنظیموں نے بھی فلسطینی ڈاکٹرز کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیلی حراست میں ان پر تشدد کیا جا رہا ہے، کیونکہ ڈاکٹر کی یروشلم میں اسرائیلی سپریم کورٹ (Supreme Court , Jerusalem)کی سماعت کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے وقت ان کی حالت انتہائی خراب دکھائی دی۔

ڈاکٹر کے بیٹے الیاس ابوصفیہ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے صرف ایک ایسے والد کا چہرہ نہیں دیکھا جسے ہم کئی طویل مہینوں سے یاد کر رہے تھے، بلکہ ہم نے ان کے چہرے پر تشدد، تکلیف اور شدید تھکن کے واضح آثار بھی دیکھے۔

 گرفتاری سے قبل ڈاکٹرحسام ابوصفیہ  شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال (Kamal Adwan Hospital in Beit Lahiya) میں بچوں کے معالج اور اسپتال کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ بدھ (10ْجون) کو ہونے والی سماعت کے بعد ان کے وکیل ناصر نے بتایاکہ ڈاکٹر نے ہمیں اور عدالت کو بتایا کہ وہ اب بھی کمر اور گردن کے شدید درد میں مبتلا ہیں ۔ یہ درد دو ماہ قبل نافحہ جیل سے نیگیو جیل منتقل کیے جانے کے دوران ان پر ہونے والے حملے کا نتیجہ ہے ۔ انہیں اب تک مناسب علاج فراہم نہیں کیا گیاہے اور ان کی دائمی بیماریوں کے باعث مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔

وکیل کے مطابق ڈاکٹر کو بینائی کے مسائل کا بھی سامنا ہے کیونکہ ان کی عینک ضبط کر لی گئی تھی اور اب تک واپس نہیں کی گئی ہے ۔ ناصرعودہ نے مزید کہاکہ ہم اب بھی ڈاکٹر کے ہاتھوں پر جلدی بیماریوں کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ یہ بیماریاں اسرائیلی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کے حصوں میں وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہیں۔ طبی غفلت کے باعث ان بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔