(فوٹواے پی)
امریکہ اور ایران کے بیچ معاہدہ طئے پاگیا ہے۔ فریقین کے بیچ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعے کے روز ہوں گے۔
دنیا کو جس معاہدے جس کا انتظار تھا وہ طئے پاگیا ہے۔ اس طرح ایک بڑے عالمی بحران کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگئی ہے حالانکہ جنگ کے مکمل خاتمے کے معاہدے کےلیے دنیا کو ہنوز انتظار کرنا ہوگا تاہم امریکہ اور ایران کے بیچ ابتدائی معاہدے کے طئے پانے سے یہ اُمید جگی ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کی صورت بھی بات چیت سے نکل آئے گی ۔
معاہدے کے تعلق سے اعلان پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف (پیر،15 جون)نے کیا جس کی تصدیق صدر ٹرمپ نے کی ۔
معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم جنگ کے مکمل خاتمے کے راستے میں کئی بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں، جن میں سب سے اہم یہ سوال ہے کہ آیا اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا یا نہیں۔
معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم بظاہر اس پر عمل درآمد اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک اس پر باضابطہ دستخط نہ ہو جائیں۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے مطابق دستخط جمعہ کو جنیوا میں متوقع ہیں۔
اسرائیل کے وزیر دفاع نے پیر کو کہا کہ اسرائیل لبنان میں قبضہ کیے گئے علاقوں سے واپس نہیں ہٹے گا۔ اسرائیل، حزب اللہ کے خلاف لبنان میں کارروائیاں کر رہا ہے، 28 فروری کو امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہوا تھا، تاہم وہ اس نئے معاہدے کا فریق نہیں ہے۔وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو لاحق ہر خطرے کے خلاف دفاع جاری رکھے گا۔
یہی معاملہ معاہدے کو ناکام بنا سکتا ہے کیونکہ ایران کا موقف ہے کہ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے میں لبنان میں لڑائی کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
معاہدے کو دیگر بڑے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ اس کے تحت صرف 60 دنوں میں ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر اور اس کے جوہری پروگرام کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس پروگرام کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ تہران مسلسل اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر امریکہ کو الگ کر لیا تھا، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بالآخر موجودہ جنگ شروع ہوئی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم بعد میں واضح کیا کہ آبی گزرگاہ جمعہ سے پہلے نہیں کھولی جائے گی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران دستخط ہونے تک اس پر عمل شروع نہیں کرے گا۔
جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایرانی حملوں کے باعث اس اہم آبی راستے میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی تھی، جس کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے ناکہ بندی نافذ کی۔
آبنائے ہرمز کی بندش، خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں اور ناکہ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا، جب کہ اس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل گئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ تنازع ختم کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے پر اتوار کو الیکٹرانک دستخط کیے گئے تھے اور وائٹ ہاؤس جلد ہی مفاہمتی یادداشت جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسرائیل کا لبنان سے انخلا سے انکار
معاہدے کی کامیابی بڑی حد تک لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان صورتحال پر منحصر ہے۔ اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی بمباری نے مذاکرات کو تقریباً ناکام بنا دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گا۔ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران اسرائیل تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقہ اپنے کنٹرول میں لے چکا ہے۔
انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل زبردست طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔
حزب اللہ اور عالمی لیڈروں کا ردعمل
حزب اللہ نے معاہدے کو ایران کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کی مکمل آزادی، قیدیوں کی واپسی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔تنظیم نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔
یورپ سے لے کر چین تک متعدد عالمی لیڈروں نے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس اور اس کے مغربی اتحادی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے کو تیار ہیں۔




