(فوٹورائٹرز)
اسرائیل کی سپریم کورٹ نے منگل کے روز غزہ کے معروف فلسطینی ڈاکٹرحسام ابو صفیہ کی رہائی کی اپیل مسترد کر دی۔ وہ 2024 سے اسرائیل کے قید خانے میں ہیں اور ان کے خلاف اب تک فرد جُرم عائد نہیں کی گئی ہے۔
اسرائیل کی سپریم کورٹ نے منگل کے روز غزہ کے معروف فلسطینی ڈاکٹرحسام ابو صفیہ کی رہائی کی اپیل مسترد کر دی۔ وہ 2024 سے اسرائیل کے قید خانے میں ہیں اور ان کے خلاف اب تک فرد جُرم عائد نہیں کی گئی ہے۔
اس فیصلے کی بنیاد ایسے خفیہ مواد پر رکھی گئی ہے جسے نہ ڈاکٹر ابوصفیہ اور نہ ہی ان کے وکیل ناصر عودہ سے شیئر کیا گیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل (PHRI) کے شعبۂ قیدیان و زیرِ حراست افراد کے ڈائریکٹر ناجی عباس نے رائٹرز کو بتائی۔
سپریم کورٹ کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ناجی عباس نے ایک بیان میں کہاکہ اس فیصلے کا پیغام بالکل واضح ہے کہ بغیر فردِ جرم عائد کیے اور بغیر حکام کے ذریعہ شواہد پیش کیے ایک ڈاکٹر کو غیر معینہ مدت تک آزادی سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جیل میں انہیں مناسب خوراک فراہم نہیں کی گئی اور ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے۔تاہم اسرائیلی جیل سروس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ ان کم از کم 14 غزہ کے ڈاکٹروں میں شامل ہیں جنہیں اسرائیل نے ایک سال سے زائد عرصے سے بغیر فردِ جرم کے قید کر رکھا ہے۔
گزشتہ بدھ کو یروشلم میں سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران ڈاکٹر ابو صفیہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے، جہاں وہ پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور دکھائی دے رہے تھے۔
پی ایچ آر آئی کے مطابق، گزشتہ 13 دنوں سے انہیں قید تنہائی (Solitary Confinement) میں بھی رکھا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کا الزام ہے کہ ڈاکٹر ابو صفیہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے رکن ہیں، تاہم اس نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ غزہ کی وزارتِ صحت اور حماس دونوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
2023 میں ڈاکٹر ابو صفیہ ان ڈاکٹروں میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیلی فوج کے انخلا کے حکم کے باوجود اسپتال چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ وہ درجنوں نومولود بچوں کا علاج کر رہے تھے اور انہیں تنہا چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔




