تمام تصاویر اے پی
فیفاعالمی کپ 2026 کا اسٹیج سیٹ ہے۔ تین میزبان ممالک 48 ٹیمیں ، 104 میچزکئی سوالات و تنازعات کے ساتھ تاریخ کے سب سے بڑے ورلڈ کپ کا انتظار ختم ہونے کوہے ۔ یہ ایونٹ تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔
فیفاعالمی کپ 2026 کا اسٹیج سیٹ ہے۔ تین میزبان ممالک 48 ٹیمیں ، 104 میچزکئی سوالات و تنازعات کے ساتھ تاریخ کے سب سے بڑے ورلڈ کپ کا انتظار ختم ہونے کوہے ۔ یہ ایونٹ تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔
ٹورنامنٹ کا آغاز جمعرات کو میکسیکو سٹی میں ہو رہا ہے، جہاں ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سیاسی کشیدگی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں پھیلے اس تین ملکی ایونٹ کے انعقاد کے لیے غیر معمولی انتظامی اور لاجسٹک چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
یہ سب ان سنسنی خیز مقابلوں سے الگ ہے جو میدان میں جولائی 19 کو ہونے والے فائنل تک جاری رہیں گے، جہاں فٹ بال کے بڑے ستارے کھیل کے سب سے بڑے اعزاز کے لیے مقابلہ کریں گے۔ فیفاصدرگیانی انفینٹینو نے کہاکہ یہ اب تک کا سب سے بڑا، سب سے زیادہ شمولیتی اور عظیم ترین فیفا ورلڈ کپ ہوگا۔انہوں نے پیش گوئی کی کہ 70 لاکھ شائقین اسٹیڈیمز میں میچز دیکھنے آئیں گے جب کہ مزید 6 ارب لوگ دنیا بھر سے اسے دیکھیں گے۔
انہوں نے کہاکہ فیفا انسانیت کے لیے خوشی فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ یہ بات ابھی دیکھنا باقی ہے۔ ٹورنامنٹ ایسے وقت میں امریکہ میں شروع ہو رہا ہے، جو زیادہ تر میچز کی میزبانی کرے گا، جب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، ایران میں جنگ جاری ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر بحث جاری ہے۔
بہت بڑا ٹورنامنٹ
تین ممالک میں پھیلا یہ غیر معمولی ٹورنامنٹ فیفا کا ورلڈ کپ کے حوالے سے تازہ ترین ایڈیشن ہے اور وقت ہی بتائے گا کہ یہ کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کے نزدیک 32 ٹیموں سے بڑھا کر 48 ٹیموں کا فارمیٹ کرنے سے ایونٹ کا معیار متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں پہلی بار شرکت کرنے والی نسبتاً چھوٹی ٹیموں جیسے Curacao اور Cape Verde کے لیے بھی جگہ بنائی گئی ہے۔
گروپ مرحلے میں مقابلے کی شدت بڑی حد تک کم ہو گئی ہے کیونکہ مضبوط ٹیموں کو ایک دوسرے سے الگ رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل سنسنی شاید پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) تک مؤخر ہو جائے۔
کتاب The Power and the Glory: A New History of the World Cup کے مصنف Jonathan Wilson نے کہاکہ اس بات میں توازن ضروری ہے کہ ورلڈ کپ واقعی دنیا کی نمائندگی بھی کرے لیکن ساتھ ہی یہ ایک ایسا فٹ بال ٹورنامنٹ بھی ہونا چاہیے جو یہ طے کرے کہ دنیا کی بہترین ٹیم کون سی ہے۔
گرمی بڑا مسئلہ
ایک چیز جس کا الزام فیفا پر نہیں لگایا جا سکتا، وہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے، اور شدید گرمی کے کھلاڑیوں، شائقین، کارکنوں اور حکام پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔
کچھ مقامات مثلاً امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس اور ہوسٹن میں درجہ حرارت محسوس ہونے کے اعتبار سے 90 ڈگری فارن ہائیٹ (32 ڈگری سینٹی گریڈ) سے بھی اوپر جا سکتا ہے۔ جبکہ کینساس سٹی اور اٹلانٹا بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔
حفاظتی اقدامات کے طور پر کھلاڑیوں کے لیے پانی پینے کے خصوصی وقفے دیے جائیں گے، جبکہ فیفا نے شمالی امریکہ کے 16 اسٹیڈیم کے لیے پانی کی بوتلوں سے متعلق اپنی پالیسی بھی تبدیل کر دی ہے، خاص طور پر ان اسٹیڈیمز میں جہاں دھوپ سے بچاؤ کے لیے سایہ محدود ہے۔
عظیم ستارے، کمزور ٹیمیں اور بہت کچھ
بالآخر جب ورلڈ کپ کی بات آتی ہے تو اصل توجہ فٹ بال پر ہی مرکوز ہو جاتی ہے، اور اس بار بھی کئی دلچسپ کہانیاں سامنے آ سکتی ہیں۔
کیا 38سالہ لیونل میسی کی عمر میں ورلڈ کپ میں ایک آخری یادگار کارنامہ انجام دے سکیں گے؟ اور کیا یہ اس عالمی اسٹیج پر ان کی آخری پیشی ہوگی؟
کیا 41 سالہ کرسٹیانو رونالڈو اپنی ریکارڈ ساز کریئر کا وہ واحد بڑا اعزاز جیت سکیں گے جو اب تک ان کی پہنچ سے باہر رہا ہے؟
پانچ مرتبہ کی عالمی چیمپئن برازیل دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد اپنے پہلے عالمی ٹائٹل کی تلاش میں ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے معروف اطالوی کوچ کارلو انسلوٹی کی خدمات حاصل کی ہیں۔
انگلینڈ نے اپنی 60 سالہ ناکامیوں کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے جرمن کوچ تھامس ٹوکیل پر اعتماد کیا ہے۔
اور پھر میزبان امریکہ کا کیا ہوگا، جس کی قیادت ارجنٹائنی کوچ مورسیو پوچیٹینو کر رہے ہیں؟ کیا وہ اپنی سرزمین پر تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ اپ سیٹ کر سکتے ہیں؟
امریکی ٹیم کے کپتان ٹم ریم نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہاکہ اگر آپ کسی ٹورنامنٹ میں یہ سوچ کر جائیں کہ ہاں، ہمارے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تو پھر وہاں جانے کا مقصد ہی کیا ہے؟ کھیلنے کا فائدہ کیا ہے؟