فیفا عالمی کپ کا آغٓاز ہونے جارہا ہے ۔ دنیا کے سب سے بڑے اسپورٹس ایوونٹ میں لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے عظیم کلاڑی آخری بار ایکشن میں نظر آئیں گے تو کچھ باصلاحیت کھلاڑی بھی فٹ بال کے اُفق پر ابھریں گے ۔ کچھ ایسے بھی کھلاڑی ہیں جوپچھلے ایڈیشنز میں اپنی چمک بکھیرچکے ہیں اور اُن کی جھولی میں چمچماتی عالمی کپ ٹرافی کی کمی ہے۔ اس فہرست آٹھ ایسے فٹ بالر ہیں جن پر شائقین کی خاص نظرہوگی ۔
ارجنٹینا کے لیونل میسی اور پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو بالآخر نئی نسل کو قیادت سونپ سکتے ہیں، جس میں اسپین کے نوجوان سنسنی خیز کھلاڑی لامین یامال بھی شامل ہیں۔
فرانس کے کیلین ایمباپے، جو 2018 میں صرف 19 سال کی عمر میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے، اب بھی میسی اور رونالڈو کے حقیقی جانشین کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرنے کے منتظر ہیں۔
تاہم صرف یہی نہیں، بلکہ ناروے کے گول مشین ایرلنگ ہالینڈ سمیت کئی دوسرے ستارے بھی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ 8 کھلاڑی جن پر اس سال کے ورلڈ کپ میں خصوصی نظر رہے گی۔
1- لیونل میسی (Lionel Messi)
عظیم میسی نے چار سال قبل قطر میں ارجنٹینا کو ورلڈ کپ جتوا کر اپنے کریئر کا سب سے بڑا خواب پورا کیا اور قومی ہیروڈیئگوماراڈونا (Diego Maradona)کے کارنامے کو دہرایا۔اس کامیابی کے ساتھ ہی میسی نے کلب، ملک اور انفرادی سطح پر تقریباً ہر بڑا اعزاز جیت کر فٹبال میں سب کچھ حاصل کر لیا۔
قطر ورلڈ کپ کے بعد وہ امریکہ منتقل ہوئے اورانٹرمیامی کو ایم ایل ایس کی طاقتور ترین ٹیموں میں شامل کر دیا، جہاں انہوں نے گزشتہ سال ایم ایل ایس کپ بھی جیتا۔ان کے بارے میں اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ کیا وہ تاریخ کے سب سے عظیم کھلاڑی ہیں یا نہیں، کیونکہ مارادونا اورپیلے( Pelé) کو بھی اس اعزاز کے مضبوط امیدوار مانا جاتا ہے۔ تاہم اگر میسی مسلسل دوسرا ورلڈ کپ جیت لیتے ہیں تو ان کا دعویٰ مزید مضبوط ہو جائے گا۔
البتہ ورلڈ کپ سے صرف دو ہفتے قبل میسی نے ارجنٹینا کے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ 38 سالہ اسٹار اتوار کو انٹر میامی کے میچ میں تبدیل کیے گئے اور بعد میں ان کے بائیں ہیم اسٹرنگ میں پٹھوں کی تھکن سے متعلق مسئلہ تشخیص ہوا۔ ان کی واپسی کے لیے کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔
2- کرسٹیانو رونالڈو (Cristiano Ronaldo)
رونالڈو اب بھی اس ایک ٹرافی کے منتظر ہیں جو ان کے شاندار اور ریکارڈ ساز کریئر میں اب تک ان کی پہنچ سے دور رہی ہے، یعنی ورلڈ کپ۔پرتگال کے اسٹار اس ورلڈ کپ میں سعودی کلب Al Nassr کو لیگ ٹائٹل جتوانے کے بعد شریک ہوں گے۔
انہوں نے انگلینڈ میں Manchester United، اسپین میں Real Madrid اور اٹلی میں Juventus کے ساتھ لیگ ٹائٹل جیتے، جب کہ پانچ چیمپئنز لیگ ٹرافیاں بھی اپنے نام کیں۔
انہوں نے پرتگال کے ساتھ یورپی چیمپئن شپ اور دو یوئیفا نیشنز لیگ ٹائٹل بھی جیتے۔ بین الاقوامی فٹبال میں ان کے 143 گول عالمی ریکارڈ ہیں، جب کہ ورلڈ کپ کوالیفائرز میں 41 گول بھی ایک ریکارڈ ہے۔
41 سال کی عمر میں بھی ان کی فتوحات اور ریکارڈز کی بھوک کم نہیں ہوئی۔
3- کیلین ایمباپے (Kylian Mbappé)
ایمباپے کو طویل عرصے سے میسی اور رونالڈو کے بعد دنیا کا بہترین کھلاڑی بننے والا فٹبالر تصور کیا جاتا رہا ہے۔
بعض ناقدین کے مطابق وہ یہ مقام پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں، لیکن چیمپئنز لیگ اور بیلن ڈی اور( Ballon d'Or Awards ) نہ جیت پانے کے باعث اب بھی ان کے کریئر پر سوالات موجود ہیں۔اگر وہ فرانس کو ایک اور ورلڈ کپ جتانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سال بیلن ڈی اور جیتنے کے مضبوط امیدوار ہوں گے۔
اکثر ایمباپے کا جائزہ ان اعزازات کی بنیاد پر لیا جاتا ہے جو انہوں نے حاصل نہیں کیے، بجائے ان کامیابیوں کے جو وہ پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔
4 - عثمان ڈیمبلے (Ousmane Dembélé)
موجودہ بیلن ڈی اور فاتح فرانسیسی فارورڈ نے تین سال قبل Paris Saint-Germain میں شمولیت کے بعد اپنے کریئر کو نئی زندگی دی۔ انہوں نے گزشتہ سیزن میں کلب کو پہلی چیمپئنز لیگ ٹرافی دلائی اور اس سال مسلسل دوسری فائنل تک پہنچنے میں مدد کی۔
2017 میں FC Barcelona نے انہیں 173 ملین ڈالر میں خریدا تھا، لیکن اسپین میں ان کا دور توقعات کے مطابق نہیں رہا۔ اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔
5 - ایرلنگ ہالینڈ (Erling Haaland)
مانچسٹرسٹی (Manchester City) کے اسٹرائیکر اپنی پہلی بڑی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔
25 سالہ ہالینڈ چیمپئنز لیگ اور پریمیئر لیگ میں گول اسکورنگ کے ریکارڈ توڑنے کی راہ پر گامزن ہیں اور کئی معاملات میں میسی کے ریکارڈز کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ناروے کو اگرچہ ورلڈ کپ کا مضبوط امیدوار نہیں مانا جاتا، لیکن ہالینڈ کی موجودگی اسے خطرناک بنا دیتی ہے۔
لامین یامال - (Lamine Yamal)
اسپین کے نوعمر سپر اسٹار یامال نے 2024 یورپی چیمپئن شپ میں اپنی ٹیم کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، حالانکہ فائنل سے ایک دن قبل ہی ان کی عمر 17 سال ہوئی تھی۔
تیز رفتاری اور شاندار ڈربلنگ کی بدولت وہ یورپی چیمپئن شپ کی تاریخ کے کم عمر ترین گول اسکورر بنے۔
ان کا موازنہ میسی سے کیا جا رہا ہے اور کئی ماہرین کے نزدیک وہ میسی اور رونالڈو کے بعد فٹبال کے اگلے سپر اسٹار بن سکتے ہیں۔
7- نیمار (Neymar)
برازیل کے تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی نے پورے کریئر میں اپنے ملک کی امیدوں کا بوجھ اٹھایا ہے۔
اگرچہ انہوں نے کلب سطح پر تقریباً ہر بڑا اعزاز جیتا لیکن برازیل کو چھٹا ورلڈ کپ دلانے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔
34 سالہ نیمار کو کوچ Carlo Ancelotti نے ان کے چوتھے ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا ہے، حالانکہ گزشتہ چند برس ان کے لیے انجریز اور سعودی عرب میں غیر متاثر کن دور کے باعث مشکل رہے۔
8- محمد صلاح (Mohamed Salah)
مصری فٹ بال کے عظیم ستارے محمد صلاح ایک مایوس کن سیزن کے بعد Liverpool FC کو الوداع کہہ رہے ہیں لیکن وہ اب بھی اپنے ملک کے سب سے بڑے امید ہیں۔
33 سالہ اسٹرائیکر نے لیورپول کے لیے 442 میچوں میں 257 گول کیے اور چیمپئنز لیگ سمیت تمام بڑے اعزازات جیتے۔
مصر کے ساتھ وہ دو مرتبہ افریقن کپ آف نیشنز کے فائنل تک پہنچے، مگر ٹرافی حاصل نہ کر سکے۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی ورلڈ کپ کے لیے بچا کر رکھے ہوئے ہیں۔