غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب

Published On: 17 June, 2026 12:50 AM

WhatsApp
Facebook
Twitter

Images:AP /The Holy Mosque

نئے ہجری سال کے آغاز پر ہیسعودی عرب میں غلاف کعبہ کو تبدیل کر دیا گیا۔ مسجد الحرام میں غلاف کعبہ تبدیل کرنے کی روح پرور تقریب منعقد ہوئی۔

  نئے اسلامی سال کے آغاز کے ساتھ ہیسعودی عرب میں غلاف کعبہ کو تبدیل کر دیا گیا۔غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب منعقد ہوئی۔کسوہ فیکٹری سے غلاف کعبہ کو مسجد الحرام منتقل کیا گیا۔250 ماہرین اور حرمین انتظامیہ کے کارکنان تبدیلی کے عمل میں شریک ہوئے،  تبدیلی کا کام تقریباً 4گھنٹوں میں مکمل کیا گیا۔واضح رہے کہ 2022 سے غلاف کعبہ کی تبدیلی کی سالانہ تقریب نئے اسلامی سال کے پہلے دن ہورہی ہے۔اس سے قبل غلاف کعبہ ہر سال حج کے دوران 9 ذی الحجہ کی صبح کو حجاج کے میدان عرفات روانہ ہونے کے بعد تبدیل کیا جاتا رہا تھا جب مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
 
 
غلاف کعبہ کو کس طرح اور کتنے مراحل میں تیار کیا جاتا ہے؟
غلاف کعبہ کو سات مراحل میں شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں سعودی ہاتھوں سے ہی تیار کیا جاتا ہے اور اس کی تیاری میں سونے، ریشم کی بھاری مقدار استعمال کی جاتی ہے اور ہنرمند ہاتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کرہ ارض کے مقدس ترین مقام کا لباس تیار کرتے ہیں۔
 
غلاف کی تیاری کا سفر دھلائی اور رنگ سازی کے مرحلے سے شروع ہوتا ہے، پھر بُنائی، پرنٹنگ اور کڑھائی کے مراحل سے گزرتا ہے، جس کے بعد حتمی معائنہ اور کوالٹی کنٹرول ہوتا ہے۔ آخر میں تنصیب کا مرحلہ آتا ہے جس پر کعبہ کے نئے غلاف کی تیاری کا سفر مکمل ہوتا ہے۔
 
اس عمل کی ابتدا پانی کی تطہیر (پانی سے نمکیات کو علیحدہ کرنے) سے ہوتی ہے۔ پانی کی تطہیر کے بعد کعبے کے غُسل کا مرحلہ آتا ہے اور دوسری طرف غلاف کی رنگائی کا ابتدائی کام شروع ہو جاتا ہے۔
 
سب سے پہلے غلاف سے موم کی تہہ کو ہٹایا جاتا ہے اور کسوہ کے بیرونی حصے کی سیاہ جبکہ اندورنی حصے کی سبز رنگائی کی جاتی ہے، اس کے بعد خود کار بُنائی کا مرحلہ آتا ہے۔
 
 
ہر سال غلاف کعبہ میں مجموعی طور پر 825 کلو گرام قدرتی خام ریشم کا استعمال ہوتا ہے، جس کو پہلے بُنا جاتا ہے اور پھر مخصوص سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے اور اگلے مرحلے میں غلاف کے مختلف حصوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
 
کڑھائی کے مرحلے میں غلاف کو سجانے والی قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کے لیے سونے کے پانی سے ملمع شدہ چاندی کے تقریباً 120 کلو گرام تار استعمال کیے جاتے ہیں۔
 
اس کے علاوہ نفیس کڑھائی کے کاموں میں تقریباً 60 کلو گرام خالص چاندی استعمال ہوتی ہے جو غلاف کو ایک منفرد فنی انداز دیتی ہے اور اس قدیم اسلامی ورثے کی قدر کو اجاگر کرتی ہے۔
 
قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کو نمایاں کرنے اور غلاف کو خوبصورتی دینے کے لیے تقریباً 410 کلو گرام خام کپاس کا استعمال کیا جاتا ہے جو اسے ایک منفرد اور پروقار شکل دیتا ہے۔