(ویب سائٹ سے )
غبارے ممتاز مفتی کی پہلی کتاب ہے۔ یہ ان کے مضامین کا مجموعہ ہے جوفروری 1954ء میں ’ غبارے‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ان مضامین میں ممتاز مفتی اپنا نقطہ نظر بغیرلاگ لپیٹ کے پیش کیا ہے۔
مجھے گدھے پر رشک آتا ہے۔ اس عقل مند جانور نے اپنی بے وقوفی کا پرچار کرکے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے ہر مشکل کام اور ذمہ داری سے محفوظ کرلیا ہے۔
اب وہ بڑی سے بڑی چالاکی کرے تو بھی آپ اسے حماقت پر محمول کرکے ہنس دیں گے اور پیار سے کہیں گے ، گدھا ہے گدھا۔ چونکہ آپ اسے خالص بے وقوف تسلیم کر چکے ہیں اور حماقت کے سوا اور کسی بات کی توقع نہیں رکھتے اور گھوڑا ۔۔۔ ۔۔۔ بے وقوف!
اپنی ذہانت کا ڈھونگ رچا کر ہمیشہ کے لیے غلام بن چکا ہے۔ ہر کام جس میں ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے ، اس کے ذمے ہوچکا ہے مثلا بھرے بازاروں میں تانگہ لیے پھرنا ، لڑائیوں میں سواروں اور توپوں کو لے کر آگے بڑھنا ، شادی میں دلہا کو اٹھائے پھرنا۔ اس کے برعکس گدھا ، زیادہ سے زیادہ مٹی کا بور اٹھایا اور بس۔




