(فوٹورائٹرز)
صدرٹرمپ کے حالیہ دعوؤں اور بیانات کو ایران نے جھوٹ پر محمول کیا ہے ۔ یہ پہلا موقع نہیں جب ایران نے ٹرمپ کے دعوے کوجھوٹ قراردیا ہے ۔ تاہم اس بار ایران کی جانب سے بہ یک ٹرمپ کے سات دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ بتایا گیا ہے۔ آخرٹرمپ نے کیا کیا دعوے کیے تھے؟
گزشتہ چند گھنٹوں میں ٹرمپ سوشل میڈیا پر ایکٹو رہے ہیں ۔ انھوں نے میڈیا سے بھی بات کی ۔ اس دوران انھوں نے ایران،لبنان۔اسرائیل سیزفائر پاکستان کی سفارتی کوششوں، نیٹو سمیت مختلف موضوعات پرگفتگو بھی کی ہے۔
پیش ہے ٹرمپ کے کچھ حالیہ بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹ کی خاص خاص باتیں ۔
۱۔ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے اور کبھی بند نہ کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
۲۔ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایران کے حوالے سے برقرار رہے گی، جب تک کہ ایران کے ساتھ ہمارا معاہدہ صد فیصد مکمل نہیں ہو جاتا
۳۔ بلومبرگ نیوز کوبتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ اتوار کو مذاکرات آگے بڑھیں گے اور مستقل جنگ بندی کا معاہدہ قریب ہے۔
۴۔ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا ایران نے امریکہ کی مدد سے، تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں یا ہٹا رہا ہے!
۵۔ایران افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کو آمادہ ہوگیا ہے۔ اور ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ تمام نیوکلیئر ‘ڈسٹ’ حاصل کرے گا۔
۶۔بلومبرگ کو بتایا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
۷۔خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کام کرے گا، اور بڑے بڑے آلات سے جوہری تنصیبات سے یورینیم نکالنا شروع کرے گا۔
۸۔اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا۔ اسے امریکہ کی طرف سے ایسا کرنے سے روکا گیا ہے۔ اب بہت ہو چکا!!!
۹۔اب جب کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ختم ہو گیا ہے، مجھے نیٹو کا فون آیا کہ کیا ہمیں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ دور رہیں۔ جب ضرورت تھی تو نہیں آئے، کاغذی شیر!




