(فوٹورائٹرز)
سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ مکہ مکرمہ کے جنوب میں اس کے فضائی دفاع نے حوثیوں کا ایک ڈرون تباہ کر دیا، جو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔
سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو اس وقت تباہ کر دیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ ڈرون کو منگل کی شام روکا گیا۔ ان کے مطابق جولائی 2017 میں مکہ مکرمہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب حوثیوں کی جانب سے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی کوشش کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مکہ مکرمہ کی سکیورٹی سعودی عرب کے لیے ریڈ لائن ہے۔ مکہ مکرمہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کا مرکز اور سالانہ حج کا مرکزی شہر ہے۔
تاہم حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی عرب کے دعوے کی تردید کی ہے۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد الفراح نے حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے ’صبا‘ سے گفتگو میں اس الزام کو سریح جھوٹ قرار دیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سعودی عرب بھی بڑھتے ہوئے حملوں کی زد میں ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب میں کئی بڑے حملوں کا اعلان کیا ہے۔ پیر کو ایک فضائی اڈے پر حملے کے بارے میں حوثیوں نے کہا تھا کہ یہ یمن میں سعودی قیادت میں ہونے والے فضائی حملوں کا جواب تھا۔ سعودی اتحادی فوج کے مطابق اس حملے میں 13 شہری زخمی ہوئے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے جمعے کو ملک کی ایک اہم تیل ترسیلی گزرگاہ کو نشانہ بنانے کا الزام عراق میں موجود ایک الگ ایران نواز گروپ پر عائد کیا۔ حملے میں مشرقی صوبے کے تیل کے ذخائر کو بحیرۂ احمر سے ملانے والی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن متاثر ہوئی۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں طویل عرصے سے جاری رکاوٹ کے باعث یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمد کا اہم متبادل راستہ بن چکی ہے۔ سعودی عرب نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ پائپ لائن سے تیل کی ترسیل کب بحال ہوگی، تاہم امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے منگل کو سی این بی سی سے گفتگو میں کہا کہ آئندہ چند دنوں میں پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بحال ہونے کی توقع ہے۔
بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں کے بعض حصوں پر حوثیوںکا کنٹرول
ادھرحوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں کے بعض حصوں پر بھی کنٹرول حاصل کیا ہے۔ ان علاقوں کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ وہ باب المندب کے قریب واقع ہیں، جو عالمی بحری تجارت کی ایک اہم گزرگاہ ہے۔ سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ اس صورت حال سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث پہلے ہی متبادل راستوں پر منتقل کی جانے والی اس کی تیل برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔
سعودی عرب نے 2015 سے یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کی ہے۔ گزشتہ برسوں میں جنگ بندی کے باعث تنازع نسبتاً پرسکون رہا، تاہم رواں ماہ حوثیوں کی جانب سے یمنی حکومت کے حامی فورسز کے خلاف پیش قدمی کے بعد لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرکے فوجی تعاون طلب کیا تھا۔ تاہم اب تک امریکی معاونت بنیادی طور پر انٹیلی جنس تعاون تک محدود رہی ہے۔
امریکہ کی اپنے شہریوں کومتحاط رہنے کی ہدایت
سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ملک کا سفر کرنے سے قبل احتیاط برتنے اور اپنے سفری منصوبوں پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے امریکی مفادات کو لاحق خطرات، مسلح تنازعات، دہشت گردی کے خدشات، ملک سے باہر جانے پر ممکنہ پابندیوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق مقامی قوانین کے پیش نظر امریکی شہری سعودی عرب کے سفر کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ ہدایت میں سعودی عرب کے بعض علاقوں کو نسبتاً زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے خاص طور پر یمن کی سرحدی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے، جہاں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔





