مسجد اقصیٰ (فوٹو اے پی)
مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مذہبی عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی مسلم ممالک نے سخت مذمت کی ہے ۔ انھوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مذہبی عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی مسلم ممالک نے سخت مذمت کی ہے ۔ انھوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں غاصب اسرائیلی حکام سکیورٹی خدشات کی آڑ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو عبادت کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
یروشلم میں عیسائیوں کے قدیم چرچ میں اس سال ایسٹر کی مجلس کی بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ایسا صدیوں بعد ہوگا۔ایسٹر5 اپریل کو ہے۔
گزشتہ ایک مہینےسے زائد عرصے سے مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے پس منظر میں اسرائیلی حکام سکیورٹی خدشات کے بہانے عبادت گزاروں کو احاطے یں داخلے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
ترکیہ، اردن،مصر، قطر، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات،انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں پر اسرائیل کی عائد کردہ پابندیوں کو مسترد کردیاہے۔ انھوں نے یروشلم میں مسلم اور عیسائی مقدس مقامات کی موجودہ قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی ایک بات پھر مذمت کی۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جاری اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قوانین اور موجودہ قانونی و تاریخی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہیں جبکہ یہ پابندیاں عبادت گاہوں تک غیر محدود رسائی کے حق کی خلاف ورزی بھی ہیں۔
وزراء نے غیر قانونی اور محدود کرنے والے اقدامات کو بھی مسترد کردیا، جن میں مسیحیوں کو چرچ آف ہولی سیپلچر تک آزادانہ رسائی سے روکنا بھی شامل ہے۔ انھوں نے مسجد الاقصیٰ کے دروازوں کو عبادت گزاروں کے لیے مسلسل 30 روز تک بند رکھنےکی بھی مذمت کی۔
ٰ
واضح رہے کہ ، فروری سے مسجد اقصیٰ کے دروازے بند ہیں۔ رمضان حتیٰ کہ عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ 1967کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب رمضان اور نمازِعید اداکرنے کی اجازت مسلمانوں کو نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یروشلم اوقاف اور امورِ مسجد الاقصیٰ کا ادارہ جو اردن کی وزارتِ اوقاف کے ماتحت ہے اس مقام پر واحد اختیارات رکھتا ہے۔




