فلسطینیوں سے اختیارات کی منتقلی، الخلیل کے مقدس مقام پر نیا تنازع

Published On: 17 June, 2026 01:28 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
فلسطینیوں سے اختیارات کی منتقلی، الخلیل کے مقدس مقام پر نیا تنازع

(فوٹورائٹرز)

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون یعنی الخلیل کے علاقے میں واقع ایک یہودی اور مسلم مقدس مقام پر منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات فلسطینی حکام سے لے لیے ہیں، جس کے نتیجے میں 1990 کی دہائی سے نافذ بعض معاہداتی شقیں ختم کر دی گئی ہیں۔

اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل اسموٹرچ( Bezalel Smotrich ) کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون یعنی الخلیل میں مسجد ابراہیمی پر فلسطینیوں کا اختیار چھین لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الخلیل کے قریب ایک نئی اسرائیلی بستی کے قیام کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسموٹریچ نے کہا کہ یہ تاریخی قدم مغربی کنارے میں اسرائیلی خودمختاری کو مزید مضبوط بنائے گا، جسے فلسطینی اپنے مستقبل کی آزاد ریاست کا مرکزی حصہ قرار دیتے ہیں۔اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بندی کے قدم سے کہیں زیادہ ہے، یہ ایک قدم ہے … عملی خودمختاری، حکمرانی کا۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے ان اختیارات کے قبضے کو الخلیل کی سیاسی اور قانونی حیثیت پر تجاوز قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

1997 کے ہیبرون معاہدے کے تحت فلسطینیوں کو پورے شہر میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کا اختیار حاصل تھا، جس میں یہودیوں کا Tomb of the Patriarchs اور اس سے متصل مسلمانوں کی مسجدِ ابراہیمی بھی شامل ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران، اسرائیل نے ہیبرون کے پرانے شہر کے وسیع حصوں کو بند کر کے ابراہیمی مسجد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔

الخلیل (ہیبرون) کا قدیم شہر فلسطینی عالمی ثقافتی ورثے کی ایک تسلیم شدہ جگہ ہے۔ اس تاریخی شہر کے ان حصوں میں، جو اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول میں ہیں، دسیوں ہزار فلسطینیوں کے درمیان چند سو یہودی آبادکار بھی رہتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقبرہ یا مسجد ِابراہیمی دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک حصہ مسجد جبکہ دوسرا حصہ سیناگاگ یا یہودیوں کی عبادت گاہ ہے جہاں پر صرف یہودیوں کو داخلے کی اجازت ہے۔

25 فروری 1994ء کو ایک امریکی اسرائیلی آبادکار باروچ گولڈسٹین نے رمضان کے مہینے میں جمعے کے روز نماز ِفجر کے وقت مسجد میں گھس کر مسلمانوں پر گولیاں برسائی تھیں جس کے نتیجے میں 29 فلسطینی مسلمان ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اسی واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مرقد کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مسجد اور سیناگاگ میں بلٹ پروف شیشے کی دیواروں سے ذریعے تقسیم کر دیا گیا۔ سال میں 10 دن ایسے ہیں جب یہودی مسلمانوں کے حصے میں اور مسلمان سیناگاگ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

الخلیل، غزہ کے بعد فلسطین کا دوسرا بڑا شہر ہے اور مسلمانوں کے لیے بے حد محترم بھی کہ یہاں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحقٰ علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے مراقد ِعالیہ ہیں۔