(فوٹواے پی فائل)
یہودی تہواروں کے سیزن کے آغاز پر یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہوکر تلمودی رسومات ادا کیں۔ رواں سال کے آغاز سے اگست کے اختتام تک مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد 40 ہزار 661 تک پہنچ چکی ہے۔
یہودی تہواروں کے سیزن کے آغاز کے موقع پر تقریباً 300 انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج اور اس کے زیرِ اثر مسلح اسپیشل فورسز کی سخت سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بول دیا۔ آباد کاروں نے مسجد کے احاطے میں تلمودی رسومات ادا کیں اور مختلف مقامات پر اشتعال انگیز حرکات کیں۔
اسلامی اوقاف کے ایک ذمہ دار کے مطابق یہودی آباد کار گروہوں کی شکل میں مراکشی دروازے یعنی باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔ اس دوران قابض اسرائیلی فورسز نے انہیں سخت سکیورٹی فراہم کی اور مسجد کے صحنوں میں ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کی۔
بیت المقدس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آباد کاروں نے مسجد کے صحنوں میں چکر لگائے جبکہ انتہا پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے مسجد کے مشرقی حصے میں قبۃ الصخرہ کے سامنے تلمودی رسومات اور دعائیں ادا کیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی نام نہاد نئے عبرانی سال (راس السنہ العبریہ) اور یہودی تہواروں کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہوئی۔ اس موقع پر نام نہاد ہیکل کے حامی گروہوں نے بھی یہودی آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں شوفار (یہودی مذہبی بوق) بجانے کی ترغیب دی تھی۔
ہیکل کے حامی گروہ یہودی تہواروں کے دوران مسجد اقصیٰ میں بڑے پیمانے پر دھاوے، مذہبی رسومات اور دیگر خلاف ورزیوں کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان گروہوں کا مقصد مسجد اقصیٰ کے حوالے سے موجود تاریخی اور قانونی حیثیت کو متاثر کرتے ہوئے نئے حقائق مسلط کرنا بتایا جاتا ہے۔
مسجد اقصیٰ پر تازہ دھاوا ایسے وقت میں ہوا ہے جب مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی مقدس مقامات کے خلاف اسرائیلی اقدامات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ فلسطینی حلقوں نے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری بھی پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ قابض اسرائیلی حکام سیاسی اور مذہبی مقاصد کے حصول کے لیے یہودی تہواروں کو مسجد اقصیٰ کے خلاف اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
یہودی تہواروں کے آغاز سے قبل ہی مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے والے آباد کاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا۔ القدس گورنری کی گزشتہ اگست کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق صرف اگست کے دوران 5 ہزار 9 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اگست کے اختتام تک مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کی مجموعی تعداد 40 ہزار 661 تک پہنچ گئی۔
یہودی آباد کار جمعہ اور ہفتے کے علاوہ عام طور پر ہفتے کے دیگر دنوں میں صبح اور شام کے اوقات میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہوتے ہیں۔جمعہ اور ہفتہ اسرائیل میں ہفتہ وار تعطیل کے دن ہیں۔ رواں سال کے آغاز سے ہی بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں دھاووں اور دیگر خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران یہودی تہواروں کے باعث مسجد اقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاووں میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ ہیکل کے حامی گروہ آباد کاروں پر مسجد کے اندر مذہبی رسومات اور دیگر کارروائیوں کی سطح بڑھانے کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں۔





